اداریہ
فلسطین کا مسئلہ آج بھی دنیا کے سامنے ایک اخلاقی امتحان کی صورت میں موجود ہے۔ یہ صرف ایک زمینی تنازع نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کا معاملہ ہے، جس میں خون کے آنسو رواں ہیں اور بے گناہوں کی آہیں فضا میں گونج رہی ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس المیے کی تازہ ترین صورتحال میں تباہی کے اعداد و شمار دِل دہلا دینے والے ہیں۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں معصوم بچوں اور خواتین کی اکثریت ہے۔ زخمیوں کا شمار لاکھوں میں ہے۔ ہزاروں مکانات، سیکڑوں اسکول، درجنوں ہسپتال اور عبادت گاہیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ تباہی محرومیوں کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔
ایسے میں ایک اہم سوال جو ہر حساس انسان کے ذہن میں گردش کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ، جو امن و سلامتی کے قیام کے لیے وجود میں آیا تھا، اس پر مسلط جنگ بندی کرانے میں آخر کیوں ناکام ہے؟ اس کی جڑیں عالمی سیاست کے گہرے بحران میں ہیں۔ سلامتی کونسل کے ڈیزائن میں رکھی گئی ویٹو کی طاقت اکثر انسانی ہمدردی اور فوری عمل کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ طاقتور ممالک کے علاقائی مفادات اور سفارتی مصلحتیں اکثر انسانی المیوں سے زیادہ اہم بن جاتی ہیں۔ نتیجتاً، قراردادیں اور مطالبے صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود رہتے ہیں، جن پر عملدرآمد کا کوئی پختہ نظام موجود نہیں۔ عالمی اداروں کی یہ بے عملی دراصل ان کی اخلاقی اختیار کی شکست ہے۔ یہ المیہ صرف فلسطین یا خطے تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری انسانیت کو للکار رہا ہے۔
اگر عالمی ادارے اپنے بنیادی مقصد، یعنی کمزوروں کی حفاظت اور جنگوں کا خاتمہ، سے عہدہ برآ نہیں ہو پا رہے، تو ان کے وجود کی معنویت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ امید کی ایک کرن عوامی بیداری اور عالمی رائے عامہ کی ہے، جو ہمیشہ انصاف کے تقاضے کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضمیر کو جگانے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے۔ جنگ بندی فوری ضرورت ہے، لیکن حتمی مقصد ایک ایسا حل ہونا چاہیے جہاں فلسطینی عوام کو امن، تحفظ اور خودمختاری کے ساتھ اپنی زمین پر جینے کا حق مل سکے۔ جب تک طاقت، انصاف پر حاوی رہے گی، ایسے المیے دہرائے جاتے رہیں گے۔ فلسطین کا درد درحقیقت پوری انسانیت کا درد ہے، اور اس درد کا مداوا تب ہی ممکن ہے جب اخلاقیات کو سیاست پر فوقیت دی جائے۔

