اداریہ
ساحلِ مکران پر امید اور روزگار کا پہیہ رکتا جا رہا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کے ماتھے پر روز بروز بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی لکیروں کے پیچھے، ان کا واحد ذریعہ معاش ہتھیا لینے والی ایک ایسی منظم مافیا کارفرما ہے جس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے خود بے بس کھڑے نظر آتے ہیں۔ محکمہ فشریز کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا اعتراف، “غیر قانونی ٹرالنگ کرنے والے طاقتور ہیں۔ ہم صرف ان کو بھگا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرسکتے”، درحقیقت صوبے کے سمندری وسائل کے تحفظ کے نام پر بنائی گئی پوری سرکاری ڈھانچے کی بے عملی کا اعلانِ شکست ہے۔
غیر قانونی ٹرالنگ کوئی چھوٹا موٹا جرائم نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے پیمانے پر منظم تباہی ہے۔ اندازے کے مطابق تقریباً 2،500 ٹرالر اس غیر قانونی کاروبار میں مصروف ہیں، جن میں سے ہر ایک ایک بار میں 30،000 سے زائد مچھلیوں کا شکار کر لیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک غریب مقامی ماہی گیر بمشکل 400 سے 500 کلوگرام مچھلی ہی پکڑ پاتا ہے۔ یہ ٹرالر جدید اور انتہائی تباہ کن جال استعمال کرتے ہیں، جو سمندر کی تہہ تک جاکر نہ صرف مچھلیوں، بلکہ مینگرووز اور دیگر تمام آبی حیات کو بھی اکھاڑ پھینکتے ہیں، اس خطے کی مچھلیوں کی پیداوار کی صلاحیت کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتے ہوئے۔
اس ماحولیاتی قتلِ عام کا سب سے برا نقصان مقامی آبادی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ساحلِ مکران کے ان ماہی گیروں کا پورا خاندانی نظام سمندر پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرالرز کے ذریعے وسائل کی بے دردی سے لوٹ نے ان کے روزگار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال صرف معاشی نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جہاں ایک طرف طاقتور مافیا من مانی کر رہی ہے، تو دوسری طرف ریاستی ادارے اپنے ہی شہریوں کے بنیادی حقِ روزگار کی حفاظت کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ “طاقتور” ٹرالنگ مافیا ہے کون؟ اور حکومتی ادارے حقیقتاً کیوں ناکام ہیں؟ حقائق بتاتے ہیں کہ محکمہ فشریز کے اہلکار گرفتاریاں کرتے اور مقدمات درج کراتے ہیں، لیکن “ان کے پاس وسائل ہیں اور وکیل بھی ان کے پاس ہیں۔ جو ان کو بری کروا دیتے ہیں”۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس مافیا کے پیچھے وہ مالی وسائل اور سیاسی پشت پناہی موجود ہے، جس کا مقابلہ محکمے کے پاس موجود محدود انتظامی وسائل نہیں کر پاتے۔
حال ہی میں اورماڑہ میں غیر قانونی ٹرالنگ کی کوشش کے خلاف محکمہ فشریز کی کارروائی کے دوران ٹرالنگ مافیا اور گشتی ٹیم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تک ہوا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ لوگ کتنی بے باکی اور طاقت کے ساتھ اپنا غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ محکمے نے مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن زمینی حقائق، جیسا کہ فشریز کے افسران خود بیان کر رہے ہیں، اس امید کو پست کر دیتے ہیں۔
ایک طرف مقامی ماہی گیر احتجاج کرتے ہیں کہ سرکاری چیک پوسٹس انہیں سمندر میں جانے سے روکتی ہیں، تو دوسری طرف بڑی کشتیوں پر سوار ٹرالر مافیا بلا روک ٹوک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا اس تضاد کے پیچھے سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت کا عنصر تو نہیں؟ وزیراعلیٰ بلوچستان کے اس وعدے کے باوجود کہ غیر قانونی ٹرالنگ کی شکایت ملنے پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی، عوام کا اعتماد بحال ہوتا نظر نہیں آتا۔
یہ سمندری لوٹ مار بلوچستان میں جاری وسیع تر محرومی اور عدم اعتماد کے بحران سے الگ نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی تازہ رپورٹ “بلوچستان میں اعتماد کا بحران” واضح کرتی ہے کہ صوبے میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار کس قدر کمزور ہو چکی ہے۔ جبری گمشدگیوں، سیاسی بے دخلی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ہر سطح پر ناانصافی کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ایسے میں، جب سمندری وسائل، جو صوبے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان پر ایک “طاقتور مافیا” قابض ہو جائے اور ریاستی ادارے اس کا مؤثر تدارک کرنے میں ناکام رہیں، تو عوامی عدم اعتماد میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ ماہی گیروں کے احتجاج اور ان کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کے باوجود، اگر زمینی صورت حال نہیں بدلتی، تو اس کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک بہت بڑا خلا موجود ہے۔
بلوچستان کے سمندری وسائل کو بچانے کے لیے محض محکمہ فشریز کی کارروائیوں کو “سخت” کرنے کے اعلانات کافی نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
1. شفافیت اور جوابدہی: ٹرالنگ مافیا کی شناخت کی جائے، خواہ اس میں کتنے ہی بااثر افراد کیوں نہ شامل ہوں۔ وزیراعلیٰ کے وعدے کے مطابق، ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے۔
2. مقامی آبادی کو بااختیار بنانا: مقامی ماہی گیروں کو نگرانی اور روک تھام کے عمل میں شامل کرنے کے معاہدے پر فوری عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ان کی حفاظت اور روزگار کو اولین ترجیح حقیقی اقدامات سے ثابت ہونی چاہیے۔
3. وسائل اور قانونی اصلاحات: محکمہ فشریز کو نہ صرف نفری اور جدید آلات جیسے وسائل فراہم کئے جائیں، بلکہ ایسے قانونی نظام کی ضرورت ہے جہاں طاقتور وکلاء کے ذریعے مجرم بری نہ ہو سکیں۔
بلوچستان کے سمندر کی تہہ میں صرف مچھلیاں ہی نہیں، صوبے کے لاکھوں افراد کے مستقبل کی امیدیں بھی موجود ہیں۔ اگر ان امیدوں کو طاقتور مافیا کی نذر ہونے سے بچانا ہے، تو ریاست کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے، مخلصانہ سیاسی عزم اور ٹھوس اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ورنہ، سمندر کا کنارہ روزگار سے محرومی کے سوا کچھ نہیں دے گا، اور صوبے میں عدم اعتماد کی گہری کھائی اور بھی وسیع ہوتی چلی جائے گی۔

