اداریہ
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت سے دور، مکران کی خاک سرزمین پر قدرت نے ایک سنہری تحفہ رکھا ہے: کھجور۔ یہ کوئی عام پھل نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کی معیشت، صدیوں کی ثقافت اور پاکستان کی زرعی برآمدات کا ایک ممکنہ طاقتور ستون ہے۔ ضلع کیچ اور پنجگور اس سنہری تحفے کے بلا شرکتِ غیرے مرکز ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کل کھجور پیداوار کا 40 فیصد سے زائد صرف انہی دو اضلاع سے آتا ہے، جبکہ صوبائی سطح پر بلوچستان ملکی پیداوار میں 71 فیصد کا حیرت انگیز حصہ ڈالتا ہے۔ یہاں کیچ میں 61 ہزار ایکڑ پر پھیلے باغات سالانہ ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد، اور پنجگور میں 47 ہزار ایکڑ پر قریب ایک لاکھ بیس ہزار ٹن کھجور پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ دیوہیکل صلاحیت ہے جو پاکستان کو عالمی منڈی میں چھٹا سب سے بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک بنا دیتی ہے۔ “بیگم جنگی”، “موزاتی”، “شکری”، “ا لینی” جیسی لذیذ اقسام نہ صرف ملک بھر میں مشہور ہیں، بلکہ انہیں امریکہ اور کینیڈا جیسے معیاری منڈیوں تک برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ان باغات کی جڑیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
تین بڑی مشکلات درپیش ہیں:
· بنیادی ڈھانچے کا بحران: سب سے بڑا زخم جدید اسٹوریج کی کمی ہے۔ پورے مکران ڈویژن میں سرکاری سطح پر کولڈ سٹوریج کی گنجائش محض ایک ہزار ٹن ہے۔ پنجگور کا سرکاری سرد خانہ غیر فعال پڑا ہے۔ نتیجہ یہ کہ قیمتی پیداوار کا 30 فیصد ہر سال محض سنبھال نہ سکنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔
· قدرت کی بے رخی: موسمیاتی تبدیلیاں تباہی لے کر آئی ہیں۔ بے موسمی اور شدید بارشیں، جیسا کہ 2020 میں پنجگور میں ہوا، 90 فیصد تک فصل کو تباہ کر دیتی ہیں۔ کسان عبدالرحیم کے مطابق، “پیداوار کا ایک چوتھائی گل سڑ جاتا ہے، یہی ہماری آمدن تھی جس سے ہم محروم ہوگئے ہیں”۔
· منڈی کا استحصال: کمزور بنیادی ڈھانچے اور براہ راست مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کے باعث، مقامی کسان بیرونی خریداروں کے رحم و کرم پر ہیں جو ان کی پیداوار کو “اونے پونے داموں” خرید لیتے ہیں۔
کیا کوئی امید کی کرن ہے؟
ہاں،کچھ مثبت اقدامات بھی نظر آتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے تعاون سے پنجگور میں قائم ہونے والا ‘تمر پنجگور’ پراسیسنگ پلانٹ ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس فیکٹری نے نہ صرف کسانوں کو بہتر قیمت دلائی ہے، بلکہ کولڈ سٹوریج اور جدید پیکنگ کی سہولیات بھی فراہم کی ہیں، جس سے کھجور کی امریکہ تک برآمد ممکن ہوئی ہے۔ اس سے محمد یونس جیسے چھوٹے کسانوں کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے، جو اب اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، یورپی یونین کے تعاون سے 20 اضلاع کے کسانوں کو جدید تربیت دینے کا ایک منصوبہ بھی جاری ہے۔
حکومتی اقدامات کافی نہیں
لیکن یہ تمام اقدامات مجموعی صورتحال کے سامنے ایک قطرہ ہیں۔پانی کے پرانے نظام کاریز کی بحالی، سولر انرجی تک رسائی آسان بنانا، اور سب سے بڑھ کر کولڈ سٹوریج اور پراسیسنگ یونٹس کی تعداد میں بنیادی سطح پر اضافہ اشد ضروری ہے۔ جب تک حکومتی سطح پر ایک جامع، وژنری اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری پر مبنی حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی، تب تک کیچ و پنجگور کی کھجور اپنی پوری صلاحیت کے اظہار سے محروم رہے گی۔
کیچ اور پنجگور کی کھجور صرف ایک پھل نہیں،یہ ایک قومی معیشتی اثاثہ ہے جسے نظرانداز کرنے کا مطلب لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ ضائع کرنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس صنعت کو معمولی ترقیاتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر ایک قومی ترجیح کے طور پر دیکھے۔ جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کسانوں کو براہ راست مارکیٹ سے جوڑنے کے موثر انتظامات، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی سائنس پر مبنی حکمت عملی ہی اس سنہری ورثے کو بچا سکتی ہے۔ ورنہ یہ دیوہیکل باغات، بے آواز کسانوں کی طرح، خاموشی سے سوکھتے رہیں گے، اور ملک ایک بڑے اقتصادی موقع سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

