پاکستان، ایران اور افغانستان: سلامتی نہیں معاشی شراکت ہی خطے کی ترقی کی کنجی

اداریہ

جب تک کہ پاکستان ایران اور افغانستان کی قیادت یہ نہیں سمجھتی کہ دیرپا سلامتی کا راستہ صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں، بلکہ باہمی مفاد پر مبنی معاشی شراکت اور باہمی احترام سے نکلتا ہے، اس وقت تک یہ خطہ اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے محروم رہے گا۔

موجودہ تجارتی جنگ سے دونوں اطراف کے عام شہری اور تاجر ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمت عملی کو نفرت سے مفاد پر مبنی شراکت کی طرف موڑا جائے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں علاقائی تعاون کے مواقع کو بروقت بھاپ لیتی ہیں، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جاتی ہیں۔
جنوبی ایشیا کے اس اہم خطے میں جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان واقع ہیں، سیاسی کشیدگی اور باہمی تنازعات اکثر توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں انتہائی کشیدگی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ طالبان حکومت نے پاکستان پر تجارتی انحصار کم کرنے اور اس کی بجائے ایران جیسے متبادل راستوں کو استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورت حال ایک سنگین سوال کو جنم دیتی ہے: اگر ان تینوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات واقعی دوستانہ ہوتے اور گہرے معاشی رشتے استوار ہوتے، تو کیا اس علاقے کی تقدیر بدل سکتی تھی؟

آج کی حقیقت اس مفروضے سے بالکل مختلف ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدیں ہفتوں سے بند ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں تجارتی کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں اور تاجروں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ افغان حکام کے مطابق، وہ پاکستان کے ساتھ تجارت کی بجائے ایران کے راستے پر انحصار بڑھا رہے ہیں، اور گزشتہ چھ ماہ میں ایران کے ساتھ تجارت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو پاکستان کے ساتھ ہونے والی تجارت سے زیادہ ہے۔ ایران نے چابہار بندرگاہ پر ٹیرف اور اسٹوریج چارجز میں خاصی چھوٹ دے کر افغانستان کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ یہ صورتحال ایک تلخ حقیقت کی عکاس ہے کہ سیاسی اختلافات معاشی امکانات کو دبا رہے ہیں۔

اگر دوستانہ تعلقات کا مفروضہ حقیقت بن جاتا، تو یہ خطہ ایک بالکل مختلف معاشی اور جغرافیائی سیاسی نقشہ پیش کر رہا ہوتا۔

معاشی تبدیلیاں: علاقائی ہب کا قیام

· تجارت کا نیٹ ورک: پاکستان جغرافیائی طور پر ایک قدرتی پل ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتا ہے۔ دوستانہ تعلقات کی صورت میں، پاکستان کی بندرگاہیں (خصوصاً گوادر) اور ایران کی چابہار بندرگاہ افغانستان اور زمین سے محصور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے مسابقتی رسائی کے مراکز بن سکتے، جس سے خطے میں تجارتی بہاؤ میں انقلاب آ جاتا۔
· توانائی کے راستے: پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے جبکہ ایران اور وسطی ایشیا توانائی سے مالا مال ہیں۔ افغانستان کے محفوظ راستے سے گزرنے والی پائپ لائنیں اور توانائی گرڈ (جیسے کہ TAPI گیس پائپ لائن منصوبہ) پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ایران کے لیے نئی منڈیاں کھولنے کا باعث بن سکتے۔
· بنیادی ڈھانچے کی ترقی: چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت بننے والی شاہراہیں، ریلوے اور توانائی منصوبے افغانستان اور ایران تک پھیلائے جا سکتے، جس سے پورے خطے میں ترسیل کے اخراجات کم ہوتے اور تجارت میں تیزی آتی۔

جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں: استحکام اور خود مختاری

· افغانستان کی معاشی خود مختاری: افغانستان فی الحال سمندر تک رسائی کے لیے بڑی حد تک پاکستان یا ایران پر منحصر ہے۔ دوستانہ تعلقات اور متنوع راستے افغانستان کو انحصار کم کرنے اور اپنے پھلوں، معدنیات جیسے قدرتی وسائل کی برآمدات بڑھانے میں مدد دے سکتے۔
· امن کے لیے معاشی محرک: ماہرین کا ماننا ہے کہ امن کے بغیر کوئی بڑا معاشی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر مضبوط معاشی مفادات موجود ہوں، تو تینوں ممالک کے پاس سلامتی کے چیلنجز (جیسے کہ دہشت گردی کے گروہوں پر قابو پانا) کو مشترکہ طور پر نمٹانے کی زیادہ ترغیب ہو گی۔ اس سے خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب کم ہو سکتا۔
· علاقائی طاقت کا توازن: مضبوط معاشی اتحاد خطے میں باہمی انحصار کو بڑھا کر تنہا ملک کی بالادستی کے بجائے اجتماعی طاقت کو فروغ دے گا۔ یہ سب ممالک کو عالمی سطح پر بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔

تاہم، موجودہ رکاوٹیں بہت گہری ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سبب سلامتی کے مسائل ہیں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے معاملے پر اختلاف۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک تجارت بحال نہیں ہوگی جب تک کہ افغانستان کی جانب سے یقین دہانی نہیں کرائی جاتی کہ اس کی سرزمین پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ دوسری طرف، افغانستان پاکستان پر تجارت کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس بنیادی عدم اعتماد نے معاشی تعاون کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔

نتیجہ: پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات اور گہرے معاشی رشتے خطے کو ایک ترقی یافتہ تجارتی اور نقل و حمل کا مرکز بنا سکتے ہیں، جس سے لاکھوں افراد کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے اور علاقائی امن کو مضبوط سہارا مل سکتا ہے۔ یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے لیے قدرتی معاشی شراکت دار ہیں۔ افغانستان وسائل اور مارکیٹ مہیا کرتا ہے، ایران توانائی اور متبادل سمندری راستہ فراہم کرتا ہے، اور پاکستان سمندر تک رسائی اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات دیتا ہے۔

مگر اس روشن مستقبل کے حصول کا راستہ موجودہ گہرے سیاسی و سلامتی کے اختلافات سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب تک کہ ان ممالک کی قیادت یہ نہیں سمجھتی کہ دیرپا سلامتی کا راستہ صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں، بلکہ باہمی مفاد پر مبنی معاشی شراکت اور باہمی احترام سے نکلتا ہے، اس وقت تک یہ خطہ اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے محروم رہے گا۔ موجودہ تجارتی جنگ سے دونوں اطراف کے عام شہری اور تاجر ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمت عملی کو نفرت سے مفاد پر مبنی شراکت کی طرف موڑا جائے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں علاقائی تعاون کے مواقع کو بروقت بھاپ لیتی ہیں، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں