بلوچستان کے وسائل اور عدم مساوات کا دائمی المیہ

اداریہ

پاکستان کی ترقی اور سالمیت میں سب سے اہم کردار بلوچستان کا ہے، جو نہ صرف جغرافیائی محل وقوع بلکہ قومی دولت کے حوالے سے ملک کا سب سے بیش قیمت خطہ ہے۔ اس کے باوجود، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مرکز و صوبے کے تعلقات کا سوال صوبے کی تاریخ کا سب سے المناک باب بن کر رہ گیا ہے۔

صوبے کے اندر موجود سوئی گیس فیلڈز کے وسیع ذخائر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ فیلڈز پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا اہم حصہ پورا کرتی ہیں۔ تاہم، ان وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی تقسیم پر ہمیشہ سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دیگر صوبے ملکی گیس گرڈ کا حصہ بننے کے نتیجے میں توانائی کے اس اہم ذریعے سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، جو صنعت اور روزمرہ کی زندگی کو چلانے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ گیس سمیت بلوچستان کے دیگر قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ مرکز کے پاس چلا جاتا ہے۔ یہ نظام صوبے کی ترقی کے لیے مختص ہونے والے وسائل پر مرکزی کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے۔

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔ صوبے میں بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے شعبے شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ برسوں میں، حکومت کی طرف سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بلاسود قرضے جیسے اقدامات پر توجہ دی گئی ہے۔ تاہم، یہ اقدامات وسائل کے بہاؤ کے بنیادی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

اسی طرح، مرکز کے زیر انتظام لیویز فورس جیسے اداروں کے پولیس میں ضم ہونے جیسے فیصلے، وسائل کے کنٹرول کے حوالے سے مرکز اور صوبے کے درمیان طاقت کی پیچیدہ ڈائنامکس کو ظاہر کرتے ہیں۔

بلوچستان کے وسائل،خاص طور پر سوئی گیس، سے ملک بھر کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ اس صوبے کے ساتھ تاریخی قرض کو تسلیم کیا جائے۔ قرض صرف مالی معاملہ نہیں، بلکہ انصاف، مساوات اور باہمی احترام کا قرض ہے۔

بلوچستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس قرض کی ادائیگی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آئین میں دیے گئے حقوق کے مطابق وسائل پر صوبائی اختیار کو یقینی بنایا جائے، ترقیاتی منصوبوں میں صوبے کی ترجیحات کو مرکزی حیثیت دی جائے، اور فیصلہ سازی کے عمل میں بلوچستان کی نمائندگی کو مؤثر طریقے سے شامل کیا جائے۔

مللک کی مضبوطی تمام قومی وحدتوں کی خوشحالی میں مضمر ہے۔ بلوچستان کے ساتھ انصاف کیے بغیر قومی یکجہتی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں