اداریہ
یہ جبری الحاق ایک پیچیدہ تاریخی فیصلہ ہے جس کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور تک پہنچتی ہیں۔ اگرچہ اس سے جڑی کسی بڑی منظم تحریک کا سرکاری طور پر ذکر نہیں ملتا، لیکن ایک گہرا احساسِ محرومی اور شناخت کا بحران خطے کے باسیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک انتظامی حد بندی سے کہیں زیادہ، تاریخی شناخت، ثقافتی تحفظ اور سیاسی نمائندگی کا اہم سوال ہے۔
تاریخی پس منظر اور نوآبادیاتی دور
اس خطے کی تاریخ بلوچ قبیلوں، خاص طور پر میرانی، لغاری اور قیصرانی قبائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ پندرہویں صدی میں بلوچ سردار میر حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان کے نام پر ڈیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی۔ یہ علاقہ تاریخی طور پر بلوچ کنفیڈریشن کا حصہ تھا، جس کا مرکز قلات کی ریاست تھا۔ صورتحال اس وقت بدلی جب انگریزوں نے خطے پر قبضہ کیا۔ 1849ء کی سکھ جنگ کے بعد برطانوی راج نے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور 1887ء میں ڈیرہ جات کو بلوچستان سے الگ کر کے برطانوی ہند کے انتظامی ڈھانچے میں ضم کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے علاقے کے بلوچوں کو ان کے تاریخی اور ثقافتی مرکز سے دور کرنے کی بنیاد رکھی۔
قیام پاکستان اور ون یونٹ کا دور
1947ء میں پاکستان بننے کے بعد، خطے کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھے۔ نواب اکبر خان بگٹی، سردار دودا خان مری اور نواب جمال خان لغاری جیسے بلوچ رہنماؤں نے 27 نومبر 1946ء میں انگریز سرکار کو ایک یادداشت پیش کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آزادی کے ساتھ ہی ڈیرہ جات کو بلوچستان میں شامل کیا جائے۔ تاہم، یہ مطالبہ پورا نہ ہو سکا۔ اصل انتظامی تبدیلی 1955ء میں اس وقت آئی، جب ایوب خان کے “ون یونٹ” کے دور میں بلوچستان صوبے کی حد بندی کی جارہی تھی۔ اس دوران ڈیرہ جات کو بلوچستان میں شامل کرنے کی بجائے پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔ یہی وہ کلیدی تاریخی موڑ تھا جس نے اس خطے کا بلوچستان سے سیاسی اور انتظامی رشتہ تقریباً ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے پیچھے انتظامی سہولت، جغرافیائی قربت اور وقت کی مرکزی حکومت کی جانب سے انتظامی اکائیوں کو یکجا کرنے کی منطق کارفرما تھی۔
مزاحمت، ردعمل اور شناخت کا بحران، عام تاثر یہ ہے کہ یہ فیصلہ بلوچ عوام کی اکثریت کی مرضی کے بغیر کیا گیا تھا۔اگرچہ ڈیرہ غازی خان کے الحاق کے خلاف بلوچستان میں کوئی بڑی منظم تحریک براہِ راست نہیں چلی، لیکن یہ معاملہ بلوچ قوم پرستی کی وسیع تر تحریک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ خطے کے رہنماؤں کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ مطالبہ سامنے آتا رہا کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے علاقے تاریخی و ثقافتی حوالے سے بلوچستان کا حصہ ہیں اور انہیں کسی اور صوبے میں شامل کرنے کی مخالفت کی جائے گی۔
اس انتظامی تبدیلی کے سب سے گہرے اثرات ثقافتی اور لسانی شناخت پر پڑے ہیں۔
پہاڑی علاقے: کوہ سلیمان کے دامن میں رہنے والے لوگ زیادہ تر بلوچی زبان بولتے اور اپنی ثقافت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دریائے سندھ کے کنارے کے میدانی علاقوں میں رہنے والے بلوچوں پر سرائیکی زبان اور کلچر کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ بہت سے لوگ اب سرائیکی بولتے ہیں اور ان کی مادری زبان بلوچی سے دوری ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے نتیجے میں ایک نفسیاتی احساسِ کمتری اور شناخت کے بحران نے جنم لیا ہے۔ کچھ حلقے اسے ایک ایسی “تقسیم” کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا مقصد بلوچوں کی مشترکہ قوت کو کمزور کرنا تھا۔ نتیجتاً، خطے کے کچھ بلوچ اپنی قومی شناخت کو بلوچ کے طور پر برقرار رکھنے اور بلوچستان کے ساتھ تاریخی تعلق پر زور دیتے ہیں۔
جدید تناظر اور سیاسی نمائندگی
آج،یہ علاقہ انتظامی طور پر پنجاب کا حصہ ہے اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے طور پر جانا جاتا ہے، جس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ، تونسہ اور کوٹ اَدو جیسے اضلاع شامل ہیں۔ اس انتظامی الحاق نے خطے کی سیاست کو بھی بدل دیا ہے۔ ڈیرہ جات کے بلوچ پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا اہم جز بن گئے ہیں۔ اس کی واضح مثال سردار عثمان بزدار کی شکل میں ایک بلوچ کا وزیراعلیٰ پنجاب بننا ہے۔ ماضی میں بھی سردار فاروق لغاری صدر پاکستان، سردار ذوالفقار کھوسہ اور دیگر گورنر پنجاب جیسے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ یہ سیاسی انضمام ایک طرف تو مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی علامت ہے، تو دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا یہ مقامی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟
حال ہی میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بات چل رہی ہے،جس نے ڈیرہ جات کے بلوچوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے وہ اپنی بلوچ قومی شناخت مکمل طور پر کھو بیٹھیں گے اور ان کی زبان و ثقافت مزید زوال پذیر ہو جائے گی۔ خطے کے کچھ رہنما اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور تاریخی طور پر بلوچستان کے حصے ہیں اور انہیں کسی نئے صوبے میں شامل کرنے کی مخالفت کی جائے گی۔
مختصراً، ڈیرہ غازی خان کا علاقہ 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے دوران پنجاب میں شامل کیا گیا، جس کی بنیادیں برطانوی دور میں رکھی گئی تھیں۔ اگرچہ اس مخصوص فیصلے کے خلاف کوئی بڑی تحریک نہیں چلی، لیکن یہ بلوچ عوام کی ان تاریخی شکایات کا حصہ ہے جو وسائل، خودمختاری اور شناخت کے حقوق سے متعلق ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک انتظامی حد بندی سے زیادہ ایک ثقافتی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے، جو پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور قومی یکجہتی کے چیلنجوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم باب ہے۔ اس خطے کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اس کی منفرد ثقافتی و لسانی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے باشندوں کی ترجیحات اور جذبات کے مطابق کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے یا نہیں۔

