سوویت یونین کے ناکامی کے اسبابِ، کیا سسٹم یا موجودہ حالات یا اس کے چلانے والے اس کے اہل نہیں تھے۔

اداریہ

سوویت یونین کے 1991 میں تاریخی زوال کا تجزیہ ایک سادہ سوال کی طرف لے جاتا ہے: آخر وہ کون سی کمزوریاں تھیں جنہوں نے ایک سپرپاور کو نیست و نابود کر دیا؟ کیا یہ نظامِ اشتراکیت کی بنیادی خرابی تھی، یا وہ حالات جو اس کے گرد گھرے ہوئے تھے، یا پھر وہ قیادت جو اسے چلا رہی تھی؟

اس سوال کا جواب کسی ایک وجہ میں پوشیدہ نہیں۔ سوویت یونین کا بکھرنا دراصل ان تینوں عوامل کے مہلک امتزاج کا نتیجہ تھا۔ سب سے پہلے، خود نظام ہی اپنی ساخت میں ناکام تھا۔ سخت گیر مرکزی منصوبہ بندی، جس میں نجی ملکیت کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا، معیشت کو بتدریج جامد اور غیر موثر بنا گئی۔ یہ نظام جدت، تخلیقی صلاحیت اور صارف کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہا۔ سٹالن کے دور سے چلی آ رہی خوف اور جبر کی فضا نے معاشرے کی رگوں میں ایک گہرا بیزاری اور عدم اعتماد پیوست کر دیا تھا۔

دوسری طرف، موجودہ حالات نے اس آگ میں مزید ایندھن کا کام کیا۔ 1980 کی دہائی تک سرد جنگ کی دوڑ امریکی معیشت کے مقابلے میں سوویت وسائل پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکی تھی۔ افغانستان کی طویل جنگ نے اس بحران کو اور گہرا کیا۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی جیسی بیرونی صورتحال نے بھی ریاستی آمدنی کو شدید متاثر کیا۔

تاہم، یہ کہنا کہ محض حالات نے سوویت یونین کو ڈھایا، بھی درست نہ ہو گا۔ آخر وہی تو قیادت تھی جس نے ان حالات کو سنبھالنے اور نظام میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ میخائل گورباچوف کے دور میں “پیریسٹروئیکا” (معاشی تنظیم نو) اور “گلاسنوست” (کھلے پن) کی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ مگر یہ اقدامات ایک بوسیدہ اور لچک سے عاری ڈھانچے کو بچانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔ درحقیقت، جب پرانے جبری نظام کے دروازے “گلاسنوست” کے ذریعے تھوڑے سے کھولے گئے، تو عوام میں پنپ رہی ناراضگی، قوم پرست تحریکوں اور معاشی بدحالی کا ایک سیلاب امڈ آیا، جسے روکنا ممکن نہ رہا۔ قیادت نے تبدیلی کا راستہ تو اختیار کیا، لیکن وہ اس کی تیزی اور وسعت کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔

نتیجتاً، یہ نہ صرف نظام کی بے لچکی تھی، نہ صرف بیرونی دباؤ تھا، اور نہ ہی صرف قیادت کی نااہلی تھی۔ بلکہ یہ تینوں کا مجموعہ تھا جس نے سوویت یونین کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا۔ یہ ایک ایسے ڈھانچے کا انجام تھا جو نہ تو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھل سکا، نہ ہی اس کی قیادت اس کے بڑھتے ہوئے مسائل کا کوئی پائیدار حل پیش کر سکی۔ تاریخ کے اس موڑ سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی نظام، خواہ وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر وہ عوامی ضروریات اور عالمی تبدیلیوں کے سامنے لچک اور ایڈجسٹمنٹ کا مظاہرہ نہ کر سکے، تو اس کا زوال یقینی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں