افغانستان میں ثور انقلاب کے پچاس برس، تلخ تاریخی سبق

اداریہ

موسمِ بہار 1978 میں افغانستان کے سیاسی افق پر ایک انقلاب نمودار ہوا، جسے تاریخ میں ثور انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ انقلاب کمیونسٹ نظریات سے مزین پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (پی ڈی پی اے) کا کارنامہ تھا، جس نے صدر محمد داؤد خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ تاہم، اس انقلاب کو ابتدا ہی سے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا تھا، جنہوں نے بالآخر اسے ناکامی سے دوچار کر دیا۔ اس ناکامی کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے تین محرکات کو سمجھنا ضروری ہے: اندرونی عدم استحکام، پارٹی کے دھڑوں کی کشمکش، اور بیرونی طاقتوں کی مخالفانہ مداخلت۔

ثور انقلاب کو درپیش چیلنجز اور ناکامی کے اسباب

1. سماجی تبدیلیوں کی غیر مصالحانہ نفسیات
پی ڈی پی اے نے اقتدار میں آتے ہی زرعی اصلاحات، عورتوں کے حقوق اور مذہبی روایات کے خلاف اصلاحات نافذ کیں۔ تاہم، یہ اقدامات روایتی قبائلی اور مذہبی معاشرے میں یکدم ٹھونسے گئے، جس کے نتیجے میں عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ معاشرے کی اکثریت نے ان تبدیلیوں کو بیرونی نظریات کی زبردستی نفاذ سمجھا، جس نے انقلاب کے خلاف مزاحمت کو ہوا دی۔
2. خلق اور پرچم دھڑوں کی داخلی کشمکش
پی ڈی پی اے دو بڑے دھڑوں خلق (نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین کی قیادت میں) اور پرچم (ببرک کارمل کی قیادت میں) میں بٹی ہوئی تھی۔ یہ دھڑے نہ صرف نظریاتی اختلافات رکھتے تھے بلکہ اقتدار کے لیے آپس میں برسرپیکار رہے۔ 1979 میں حفیظ اللہ امین نے نور محمد ترہ کئی کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا، لیکن ان دونوں دھڑوں کی باہمی دشمنی نے پارٹی کو کمزور کر دیا۔ اس داخلی پھوٹ نے حکومت کی استحکام کی صلاحیت کو پارہ پارہ کر دیا۔
3. بیرونی مداخلت اور سرد جنگ کا ایشیا
افغانستان سرد جنگ کے دور میں ایک اہم میدان بن گیا۔ پی ڈی پی اے کی سوویت یونین سے قریبی وابستگی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔ جب دسمبر 1979 میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں، تو امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے مجاہدین کو مالی اور عسکری امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر آپریشن سائیکلون کے تحت مجاہدین کی تربیت اور فنڈنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس بیرونی حمایت نے انقلابی حکومت کے خلاف مزاحمت کو منظم اور مسلح بنا دیا۔

پاکستان کا کردار: مخالف قوتوں کی پشت پناہی

پاکستان نے افغانستان میں انقلاب مخالف قوتوں کی حمایت میں تین محرکات کو پیش نظر رکھا:

· تاریخی تنازعات: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع (ڈیورنڈ لائن) اور پشتونستان مسئلہ 1947 سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنا رہا ہے۔ افغانستان نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کی مخالفت کی تھی اور پشتونستان تحریک کو مدد فراہم کی تھی۔
· سرد جنگ کی حکمت عملی: سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کو پاکستان نے اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھا۔ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نے پاکستان کو مجاہدین کے لیے محاذ اور اڈے مہیا کرنے پر آمادہ کیا۔
· مذہبی اور قبائلی ہم آہنگی: پاکستان نے افغانستان کے مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے ساتھ روابط استوار کیے، جو کمیونسٹ نظریے کے خلاف تھے۔ اس حمایت نے افغانستان کے اندر مزاحمت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

تاریخی سبق: ماضی کا آئینہ مستقبل کے لیے

ثور انقلاب کی ناکامی افغانستان کے لیے ایک المناک تاریخی سبق ہے، جس سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

· غیرملکی ماڈلز کی زبردستی نفاذ مقامی ثقافت اور روایات کے بغیر ناکامی کو دعوت دیتا ہے۔
· داخلی اتحاد کی کمی کسی بھی انقلابی تبدیلی کو کمزور کر سکتی ہے۔
· بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت مقامی تنازعات کو طول دینے اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔

آج افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ ماضی کی ان غلطیوں کو سمجھنا ہی مستقبل میں استحکام اور ترقی کی کلید ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں