بلوچستان کے مسنگ پرسنز کا ایشو جو کبھی پنپتا ہے، کبھی دب جاتا ہے

اداریہ

بی بی سی اردو کے مطابق، بلوچستان کے علاقے نوشکی کے مزار خان ساسولی کو جولائی 2009 میں لاپتہ کیا گیا تھا اور انہیں دس سال بعد 2019 میں رہا کیا گیا۔ یہ واپسی اکیلی نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی ایک زندہ المیہ ہے۔

“جبری گمشدگیاں” کا لفظ بلوچستان کے سیاق و سباق میں نہ صرف ایک اصطلاح ہے بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو کئی دہائیوں سے تازہ ہے۔ اس زخم کا مداوا صرف اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی مصلحتیں اس کی ضرورت محسوس کریں، ورنہ یہ ناسور ہر آنے والی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

بلوچستان میں “لاپتہ” ہونے کا مطلب: ایک طرف تو بی بی سی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز جیسی تنظیمیں یہ کہتی ہیں کہ طلباء اور بے گناہ نوجوانوں کو اٹھایا جاتا ہے، ان کی لاشیں مسخ حالت میں ملتی ہیں۔ دوسری طرف، سرکاری بیانات اور بعض اخباری اداریے اسے پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے “لاپتا” افراد درحقیقت دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے فوجی ترجمان کے ایسے ہی ایک بیان کو مسترد کیا ہے۔

اعداد و شمار کا تضاد: مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اعداد و شمار میں زبردست تضاد پایا جاتا ہے۔

عوام اور تنظیموں کے دعوے:

· منصوبہ بندی: تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں کہ صرف 2018-2019 میں ہی 450 سے زیادہ افراد واپس آئے، جو بتاتا ہے کہ یہ سیاسی مصلحت کے تحت ہوا۔
· تازہ ترین صورت حال: 2024 میں بھی کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
· کل تعداد: صرف بلوچستان میں سات ہزار افراد کے قریب لاپتہ ہونے کا دعویٰ ہے۔

سرکاری بیانات اور کمیشن:

· لاپتا افراد کمیشن کے دعوے: ملک بھر میں 10,218 میں سے 7,000 کیسز حل ہونے کا دعویٰ۔
· بلوچستان کی صوبائی حکومت: ایک موقع پر 350 میں سے 300 افراد کی واپسی کا اعتراف۔

خلاصہ
یہ تضاد صرف اعداد کا نہیں،بلکہ مکمل بیانیے کا ہے۔ ایک طرف لاپتا افراد کے لواحقین کا خاموش ماتم اور احتجاج ہے، جو کہتا ہے کہ ریاستی مشینری بے گناہ شہریوں کو ہدف بناتی ہے۔ دوسری طرف سرکاری اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ جنگ کی ایک پیچیدہ کہانی کا حصہ ہے، جس میں دہشت گرد عناصر بھی “مسنگ پرسنز” کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

درمیان میں پِس رہا ہے انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کا وہ تصور جس کی بنیاد پر کسی بھی ملک میں انصاف کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ اگر کسی پر کوئی جرم ثابت ہے، تو اسے کیوں عدالت کے بجائے کسی ان دیکھی جگہ پر پیش نہیں کیا جاتا؟ اسی سوال نے بلوچستان میں ایک گہرا اعتماد کا بحران پیدا کر دیا ہے۔

ہماری سفارشات

· آئین و قانون کی بالادستی: ریاست کو اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔ اگر کسی پر کوئی جرم ہے، تو اسے عدالت میں ثابت کیا جائے۔ جبری گمشدگی کے ذریعے سزا دینے کا کوئی جواز نہیں۔
· لاپتا افراد کمیشن کی اصلاح: موجودہ کمیشن کو غیر جانبدار، طاقتور اور شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کا اس پر اعتماد بحال ہو۔
· احساسِ ذمہ داری: اس مسئلے کے حل کے لیے صوبائی حکومت کی کوششوں کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، لیکن وفاقی سطح پر ایک جامع، غیر سیاسی اور مستقل حل کی ضرورت ہے۔
· تنازعات کا خاتمہ: ماضی کی تلخ یادوں اور بھارتی مداخلت جیسے دعووں کی آڑ میں موجودہ انسانی المیے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امن کے قیام کے لیے پہلا قدم انصاف کا قیام ہے۔

آخری بات:
بلوچستان کے مسنگ پرسنز کا المیہ صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں،پورے ملک کے انسانی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ جب تک ہر “لاپتہ” شخص اپنے گھر واپس نہیں آجاتا یا اس کے مقدر کا قانونی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تب تک یہ داغ مزید گہرا ہوتا رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ اس زخم پر مرہم رکھا جائے، نہ کہ اسے سیاسی مصلحتوں کے مطابق کھلا اور ڈھکا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں