چاہ بہار: دارالحکومت کی توسیع کے فیصلے کے پیچھے کیا ہے؟

اداریہ

ایران کے حکمران اگر واقعی سیستان و بلوچستان کے علاقے چاہ بہار اور اس کے گرد و نواح کو ایک نئے وسیع دارالحکومت کے طور پر ترقی دینے کا سوچ رہے ہیں، تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسے خطے کی تقدیر بدلنے والا اعلان ہوگا جو کئی دہائیوں سے حکومتی نظراندازی، غربت اور تنازعات کا شکار ہے۔ یہ اقدام ایک گہری حکمت عملی کا حصہ نظر آتا ہے، جس کے مقاصد خطے کی جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے سمجھے جا سکتے ہیں۔

ایک وسیع دارالحکومت کی کشش: چاہ بہار کوئی عام شہر نہیں

چاہ بہار کی اہمیت اس کے میٹھے پانی کی بندرگاہ ہونے میں پنہاں ہے۔ یہ واحد ایرانی بندرگاہ ہے جو خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک ایران کی براہ راست رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے یہ صرف ایران ہی نہیں، بلکہ خطے کی بڑی طاقتوں کے لیے بھی ایک “گیم چینجر” کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

· بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک راستہ: بھارت نے چاہ بہار میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بندرگاہ بھارت کو پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی دیتی ہے۔ یہ بھارت کو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں ایک متبادل تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔
· افغانستان کے لیے زندگی کی لکیر: سمندر سے محروم افغانستان کے لیے چاہ بہار کراچی بندرگاہ کا ایک محفوظ اور کم خرچ متبادل ہے۔ اس راستے سے افغان تاجروں کو کراچی کے مقابلے میں فی کنٹینر 500 سے 1،000 ڈالر تک کی بچت ہو سکتی ہے۔
· ایران کی معاشی نجات کا خواب: ایران چاہ بہار کو دنیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کا ایک “پررونق مرکز” بنانے کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ بندرگاہ بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کا ایک وعدہ ہے۔

دارالحکومت بنانے کے فیصلے کے ممکنہ اثرات

اگر دارالحکومت کی توسیع یا منتقلی کا منصوبہ عملی جامہ پہنتا ہے، تو اس کے اثرات کئی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

مثبت امکانات

· معاشی ترقی: نئی انتظامی حیثیت سے بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
· مرکزی توجہ: صوبے کی طویل مدتی نظراندازی کے بعد، یہ اقدام خطے کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دلائے گا۔
· خطائی سلامتی: مرکزی حکومت کی موجودگی سے علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

چیلنجز اور خطرات

· سماجی کشیدگی: اگر توسیع میں مقامی بلوچ آبادی کو شامل نہ کیا گیا اور ان کے ثقافتی و سماجی حقوق کا احترام نہ ہوا، تو موجودہ عدم اطمینان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
· جغرافیائی سیاسی کشمکش: یہ اقدام بھارت، پاکستان اور چین کے درمیان خطے میں اثر و رسوخ کی مسابقت کو اور زیادہ شدید بنا سکتا ہے۔
· امریکی پابندیاں: ایران پر عائد امریکی پابندیاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر سکتی ہیں، جس سے منصوبے کی کامیابی متاثر ہوگی۔

بلوچستان: پاکستانی حصے پر مرتب ہونے والے اثرات

ایران کی جانب سے ہونے والی کسی بھی وسیع ترقی کا اثر سرحد کے پار پاکستانی بلوچستان پر بھی پڑے گا۔

معاشی اثرات

· تجارتی تبدیلی: پاکستانی بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایرانی درآمدی اشیاء، جیسے پیٹرولیم مصنوعات، ایل پی جی اور خوراک پر انحصار کرتا ہے۔ دارالحکومت کی توسیع سے اس تجارت کے حجم اور راستوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
· ہمسایہ مقابلہ: چاہ بہار کی ترقی سے گوادر بندرگاہ کو مسابقت کا سامنا ہوگا۔ تاہم، یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (Complimentary) کا کردار ادا کریں۔

سیکورٹی کی صورتحال

· سرحدی سلامتی: ایران اگر خطے میں اپنی سکیورٹی اور تعمیراتی سرگرمیاں تیز کرتا ہے، تو اس سے سرحد پار عسکریت پسند گروہوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
· باہمی تعاون یا تنازعہ: یہ اقدام دونوں ممالک کو مشترکہ سلامتی اور ترقی کے لیے قریب لاسکتا ہے، یا پھر الزامات اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

نتیجہ: چاہ بہار کو دارالحکومت کی حیثیت دینے کا خیال ایک عظیم الشان منصوبہ ہے جو خطے کے جغرافیائی سیاسی کھیل کو بدل سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ایران کی اپنی اقتصادی زنجیروں کو توڑنے، اور خطے میں اپنی اہمیت بڑھانے کی خواہش کارفرما نظر آتی ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی صرف کنکریٹ اور سٹیل سے نہیں، بلکہ مقامی بلوچ آبادی کو انصاف، شراکت اور ترقی کے ثمرات میں شریک کرنے پر منحصر ہوگی۔ اگر یہ صرف ایک “سیکیورٹی” یا “نظریاتی” توسیع بن کر رہ گئی، تو یہ موجودہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں