بلوچستان میں مقامی حکومت کے انتخابات سے گریز: صوبائی جماعتوں کی بے اعتنائی یا سیاسی مصلحت؟

اداریہ

کوئٹہ میں مقامی حکومت کے انتخابات 28 دسمبر کو ہونے ہیں۔ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو ان انتخابات میں بھرپور شرکت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ان انتخابات سے بھاگتی نظر آ رہی ہیں۔

انتخابی میدان میں پست قدموں کی واپسی: حالیہ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں 642 جنرل نشستوں پر 2،433 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ واضح ہے کہ ان میں سے زیادہ تر آزاد امیدوار ہیں یا وہ سیاسی جماعتیں جو صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے اراکین کی موجودگی کے باوجود، ان جماعتوں کے مقامی انتخابات میں نمایاں کردار ادا نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔

جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے انحراف: مقامی حکومت کا نظام جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یہ وہ سطح ہے جہاں عوام براہ راست اپنے مسائل کے حل کے لیے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کا ان انتخابات سے گریز نہ صرف جمہوری اقدار کی پامالی ہے بلکہ عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف بھی ہے۔ اگر یہ جماعتیں صوبائی سطح پر حکومت چلا سکتی ہیں تو انہیں مقامی سطح پر بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی مسائل اور ترقی میں رکاوٹ: مقامی حکومت کے انتخابات عوام کو براہ راست بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی قلت، صحت کی سہولیات، اور زراعت جیسے مسائل کا براہ راست تعلق مقامی حکومت سے ہے۔ صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کا ان انتخابات سے دستبرداری دراصل عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازش ہے۔

آئینی و جمہوری ذمہ داریوں سے فرار: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان حکومت کو آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت الیکشن میں مکمل لاجسٹیکل اور سیکورٹی سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کا انتخابی عمل میں حصہ نہ لینا آئینی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔

آخر کار، یہ رویہ نہ صرف جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ بلوچستان کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان جماعتوں کے اس رویے کو مسترد کریں اور آزاد امیدواروں یا ایسی جماعتوں کو ووٹ دیں جو ان کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اس میں مسلسل شرکت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں اور مقامی حکومت کے انتخابات میں فعال کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں