لاہور (این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ موصوف صرف ہیروں کا کاروبار کرنے اقتدار میں آئے تھے انہیں رعایت نہیں ملے گی۔انہوں نے اپنے بیان میں بانی پی ٹی آئی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چور دروازے سے اقتدار میں داخل ہونے کی کوشش کی۔بانی پی ٹی آئی کو ہر کسی کو چور اور ڈاکو کہنے کی عادت تھی جبکہ حقیقت میں ان کے اپنے دور میں چوریاں اور کرپشن ہوئیں، فیض حمید کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ بنایا گیا جس کے تحت مخالفین کو چور ڈاکو قرار دیا گیا۔صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اسی مبینہ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی اقتدار میں آئے جبکہ آف شور کمپنی چیریٹی کے پیسوں سے بنانے جیسے الزامات بھی سامنے آئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنی گالہ کے مبینہ جعلی دستاویزات کے باوجود پروجیکٹ فیض حمید کے تحت انہیں صادق و امین قرار دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی مبینہ کرپشن اور چوریوں کی کہانیاں اب زبان زدِ عام ہو چکی ہیں، یہ تاثر دیا گیا کہ وہ شاید ہیروں کا کاروبار کرنے ہی اقتدار میں آئے تھے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے اور قانون کی حکمرانی سب پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہیے۔

