اداریہ
میر گل خان نصیر بلوچستان کی ایک ہر دل عزیز شخصیت تھے، جو نہ صرف ملک الشعرا بلوچستان کے خطاب سے ممتاز تھے بلکہ ایک قوم پرست شاعر، تاریخ دان، صحافی اور جیّد سیاست دان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو انقلابی جذبے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد سے عبارت رہا۔
میر گل خان نصیر 14 مئی 1914 کو نوشکی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب خان تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد، وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئٹہ کے گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول اور پھر لاہور کے اسلامیہ کالج تشریف لے گئے۔ لاہور میں قیام کے دوران ان پر شہر کے سیاسی اور ثقافتی خیالات کا گہرا اثر پڑا، جو ان کی آئندہ سیاسی جدوجہد کی بنیاد بنا۔
اپنی سیاسی زندگی میں، گل خان نصیر نے ہمیشہ عوامی حقوق اور جمہوریت کے اصولوں کے لیے کام کیا۔
انہوں نے 1937 میں ریاست قلات نیشنل پارٹی (KSNP) کے نائب صدر کے طور پر کام کیا، جس کا بنیادی مقصد قبائلی سرداروں کی جاگیردارانہ طاقت کو کم کرنا اور عام عوام سے لیے جانے والے ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ تھا۔ بعد ازاں، وہ استمان گل Ustaman Gal، پاکستان نیشنل پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی (NAP) جیسی جماعتوں کا اہم حصہ رہے، جو مغربی پاکستان میں بائیں بازو کی ایک بڑی سیاسی قوت تھی۔
1970 کے عام انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کی کامیابی کے بعد، یکم مئی 1972 سے 13 فروری 1973 تک انہوں نے صوبہ بلوچستان کے پہلے وزیر تعلیم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے مختصر سے دور میں بھی انہوں نے بولان میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی، جو آج تک بلوچستان کا واحد میڈیکل کالج ہے۔
ان کی سیاسی جدوجہد کا محور بلوچ عوام کو تعلیم یافتہ بنانا اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلسل حکومت سے تصادم کی بجائے تعلیم اور تیاری ہی قوم کی ترقی کی کلید ہے۔
اپنے انقلابی خیالات اور عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے کے سبب، میر گل خان نصیر کو مختلف ادوار میں تقریباً 15 سال جیل میں گزارنے پڑے۔
1939 سے لے کر 1978 تک کے عرصے میں انہیں کئی بار جیل بھیجا گیا۔
1958 سے 1970 کے درمیان، جب جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت قائم تھی، نیشنل عوامی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گل خان نصیر کو بھی 5 سے 6 بار گرفتار کیا گیا اور انہیں کوئٹہ کے قلی کیمپ جیسی جیلوں میں رکھا گیا۔
1973 میں بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔ گل خان نصیر کو دیگر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور ان پر حیدرآباد ٹریبونل میں بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا۔ یہ مشکل دور 1979 میں سیاسی قیدیوں کی رہائی تک جاری رہا۔
سیاست کے میدان کی طرح ادب میں بھی گل خان نصیر کا نام بلند ہے۔ وہ ایک شاعر، ادیب اور مورخ تھے جنہوں نے بلوچی، اردو، انگریزی، براہوی اور فارسی جیسی متعدد زبانوں میں قلم اٹھایا۔
اگرچہ ان کا زیاد تر شعر و شاعری بلوچی زبان میں ہے، لیکن انہوں نے اردو میں بھی شاعری کی اور فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر کے قریبی دوست تھے۔
ان کی شاعری میں انقلابی جذبہ، وطن سے محبت اور استحصال کے خلاف آواز واضح طور پر سنی جا سکتی ہے۔ ان کی شاعری صرف فن کا نمونہ نہیں، بلکہ بلوچ قوم کے جذبہ حریت کا ترجمان بھی ہے۔
ان کی وفات کے بعد ان کے کاموں کو “گلگال” (1993) اور “شنبلاک” (1996) جیسی کتابوں کی شکل میں شائع کیا گیا۔
2001 میں، ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز (صدراتی اعزاز) سے نوازا گیا۔ 1962 میں سوویت یونین کی حکومت نے انہیں لینن پرائز دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس وقت کی حکومت نے انہیں ماسکو جانے کی اجازت نہیں دی۔
سیاسی زندگی سے ریٹائرمنٹ کے بعد، ان کی صحت نے ساتھ چھوڑ دیا اور ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ 6 دسمبر 1983 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں نوشکی میں سپرد خاک کیا گیا۔
میر گل خان نصیر نے اپنی پوری زندگی عوامی حقوق، تعلیم اور ادب کی خدمت میں گزاری۔ وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک عظیم انقلابی رہنما اور شاعر تھے، جن کی جدوجہد اور ادبی کام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

