بلدیاتی انتخابات کا معرکہ جمہوریت کے حق میں کھڑے ہوں

اداریہ

کوئٹہ کے طول و عرض میں ایک بار پھر جمہوریت کی آواز گونج رہی ہے۔ 28 دسمبر 2025 کو مقامی حکومت کے انتخابات کا شیڈول طے ہے ۔ لیکن عجیب تماشا یہ ہے کہ جو جماعتیں اس حکومت کا حصہ ہیں یا اس کے ساتھ براہ راست وابستہ ہیں، وہی ان انتخابات کو روکنے پر تل گئی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کے ارکان تک، سب نے الیکشن کمیشن سے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی ۔ جب یہ درخواستیں مسترد ہوگئیں تو انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ عدالت میں ان کا کہنا ہے کہ سخت سردی، ووٹر لسٹوں کے مسائل اور ممکنہ عدم امن کی وجہ سے انتخابات نہیں ہونے چاہئیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔

بلوچستان حکومت کے زیر انتظام جماعتوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے جو وجوہات پیش کی ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بہت کم رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے بہت سے شہری سردیوں میں دوسرے اضلاع کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں ۔
ان کا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔
ووٹر لسٹوں میں ممکنہ خرابیوں کو بھی ایک سبب کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

تاہم، سیاسی مبصرین اور مخالف رہنماؤں کا ماننا ہے کہ حکومتی جماعتوں کی مخالفت کی اصل وجہ انکی کمزور پوزیشن ہے نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سمیت مبصرین کا کھلا الزام ہے کہ حکومتی جماعتیں انتخابات میں واضح شکست دیکھ رہی ہیں، اس لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہیں ۔

انتخابی عمل کا ایک پہلو یہ ہے کہ 641 وارڈز میں سے 103 وارڈز پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں،جبکہ 18 وارڈز میں کوئی امیدوار ہی نہیں ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی تیاری اور دلچسپی میں فرق رہا ہے۔

صادق اچکزئی کا الزام ہے کہ حکومتی جماعتیں الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئٹہ میں ترقیاتی اسکیمیں شروع کر رہی ہیں، جو واضح طور پر ووٹران کی خریداری کی کوشش ہے ۔

طویل عرصے سے انتظامی خلاء
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئٹہ آٹھ سال سے میئر اور بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہے۔ اس طویل عرصے میں شہر کی ترقیاتی ضروریات نظر انداز ہوتی رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی حکومت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے جو فیصلہ دیا، وہ آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے :
آئینی ذمہ داری: کمیشن نے واضح کیا کہ آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا لازمی ہے اور انہیں ملتوی کرنا ممکن نہیں۔
تیاریاں مکمل ہیں حلقہ بندی کا عمل دو مرتبہ مکمل ہو چکا ہے اور اعتراضات پر بھی فیصلے ہو چکے ہیں ۔
وفاقی حکومت نے پاک فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کو انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ صوبائی انتظامیہ بھی انتخابی عملے کی تربیت اور دیگر تیاریوں میں مصروف ہے ۔

کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کا معاملہ محض ایک تاریخ یا شیڈول کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ آزمائش ہے ہماری جمہوری عزم کی، ہمارے اداروں کی خودمختاری کی، اور سب سے بڑھ کر عوام کی مرضی کو فوقیت دینے کی۔ آٹھ سال کا عرصہ کسی شہر کی ترقی کے لیے لمبا وقت ہوتا ہے ۔ اگر حکومتی جماعتوں کو اپنی مقبولیت پر اعتماد ہے تو انہیں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے عوام کے عدالت میں جانا چاہیے۔ 5 لاکھ 20 ہزار ووٹرز کا فیصلہ سننے کا موقع ملنا چاہیے ۔

بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ یہیں سے ترقی کی شاہراہ شروع ہوتی ہے۔ کوئٹہ کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات اور موثر مقامی حکومت کے منتظر ہیں۔ انہیں اس انتظار سے نکالنے کا وقت آ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن، عدالتیں اور سکیورٹی ادارے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اب سیاسی جماعتوں کو بھی تنگ نظر سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر جمہوریت کے بنیادی اصول کو تسلیم کرنا ہوگا۔ 28 دسمبر کو ہونے والے انتخابات نہ صرف کوئٹہ کی تقدیر بدلیں گے بلکہ پورے ملک کے لیے یہ پیغام ہوگا کہ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں