اداریہ
بلوچستان، جو جغرافیائی وسعت اور معدنی ذخائر کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے کے عوام بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کی تاریک وادی میں گم ہو چکے ہیں۔ ادھر حکومتی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر پُرزور بیانات ہیں اور ادھر ایک پوری نسل کو گمشدگی، عدالتی قتل اور اجتماعی قبروں کے خوف نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ المیہ صرف ایک صوبے کا نہیں، بلکہ پورے ملک کی اجتماعی ضمیر پر ایک بھاری داغ ہے۔
بلوچستان کے مسئلے کی جڑیں محض معاشی پسماندگی میں نہیں، بلکہ ایک گہرے سیاسی عدم توازن میں پیوست ہیں۔ 1948 میں ریاست قلات کے الحاق کے متنازعہ عمل سے لے کر آج تک، صوبے کے عوام خود کو مرکز کی جانب سے مسلط کردہ فیصلوں کا اسیر محسوس کرتے آئے ہیں۔ یہ احساس محرومی وقت گزرنے کے ساتھ ایک گہرے عدم اعتماد میں بدل گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ عدم اعتماد انسانی حقوق کی پامالی کی انتہائی ہولناک داستانوں میں ڈھل گیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے مسلسل یہ اطلاعات آتی ہیں کہ نوجوانوں، طلبہ، وکلا اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے “جبری طور پر لاپتہ” کر دیا جاتا ہے۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، انصاف کی تلاش میں سڑکوں پر نکلتے ہیں، مگر ان کی آواز اکثر ناقابل سماعت ہوتی ہے یا انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ ایسے مظاہرین کو ہراساں نہ کیا جائے۔
اس بحران کا ایک اور بھیانک پہلو ماورائے عدالت قتل ہیں۔ آواران جیسے دور دراض علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے، اور مایوس ہو کر کئی افراد خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اجتماعی قبریں دریافت ہونے کے واقعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔
حکومتی نقطہ نگاہ سے، بلوچستان میں سلامتی کے مسائل اور علیحدگی پسند تحریکوں کا وجود ایک حقیقت ہے۔ تاہم، اجتماعی سزا کا یہ طریقہ کار نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوا ہے، بلکہ اس نے مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر عوام کو خاموش کرانے کی کوشش، طویل المدت میں مزید بدامنی اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔
جبری گمشدگیوں کے ہر واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو اس عمل میں مدعو کیا جانا چاہیے۔
مرکز اور صوبے کے درمیان ایک جامع اور باعزت سیاسی ڈائیلاگ فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیے، جس میں صوبے کی خودمختاری اور وسائل پر حقوق جیسے بنیادی مسائل پر بات ہو۔ انصاف تک رسائی: لاپتہ افراد کے معاملات کی سماعت کے لیے خصوصی، آزاد اور طاقتور عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
ترقی کے نام پر صرف بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ دینے کے بجائے، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی انسانی شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔ صوبے کی خواندگی کی شرح ملک میں سب سے کم ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
بلوچستان میں آگ اور خون کا یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ ریاست کی طاقت کا اولین مقصد اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ ان پر خوف مسلط کرنا۔ بلوچ عوام کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کے شہریوں کے برابر حقوق اور عزت ملنی چاہیے۔ خاموشی، نظراندازی یا جبر کے ذریعے اس گہرے زخم پر پٹی باندھنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمت کے ساتھ انصاف، احترام اور مصالحت کے راستے پر چلا جائے۔ ورنہ تاریخ ہم سے اس خاموشی کا حساب ضرور لے گی۔

