کوہٹہ میں جمہوریت کا امتحان: انتخابی عمل کا التواء اور عوامی حق کی پامالی

اداریہ

کوئٹہ،جو بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ہے، وہاں 28 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے التواء کے تنازعے نے ملک کے جمہوری عمل پر ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات عوامی نمائندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں، جن کے ذریعے مقامی سطح پر عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوششیں اور عدالت عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود تاخیر کے اقدامات نے ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ عوام کے ووٹ کے حق پر بھی کھلا ڈاکہ ہے۔

الیکشن کمیشن پاکستان نے عدالت عالیہ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں کوئٹہ کے 400 سے زائد وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا تھا،جس پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مجموعی طور پر 2521 امیدوار میدان میں موجود ہیں، جن میں سے108 بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں اور باقی 28 دسمبر کو مقابلہ میں تھے۔
تاہم،اس مرحلے پر صوبائی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں (پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور بلوچستان عوامی پارٹی) نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے۔ انھوں نے سکیورٹی صورتحال، سرد موسم اور ووٹر لسٹ میں خرابی کو بطور جواز پیش کیا۔ الیکشن کمیشن نے حکومت کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انتخابات کا شیڈول برقرار رکھا ہے، لیکن حکومتی جماعتوں نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر کے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

جمہوریت اور عوامی حق کا سوال
اس صورت حال نے جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔عوام کا یہ جمہوری حق کہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں، اسے غیر جمہوری طریقوں سے روکا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ دلیل دی ہے کہ لوکل گورنمنٹ کی مدت صرف پانچ ماہ رہ گئی ہے، اس لیے انتخابات کا انعقاد غیر ضروری ہے۔ لیکن یہ دلیل اس تاریخی حقیقت کے سامنے بے وزن ہے کہ 2013 میں بھی عدالت عالیہ کے احکامات کے تحت بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے اور جس دن بلدیاتی نمائندوں نے حلف اٹھایا، اسی دن سے ان کی مدت کا آغاز ہوا تھا۔

دوسری طرف،نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحادی جماعتوں کی پٹیشن کے خلاف اینٹی پٹیشن دائر کر کے جمہوری عمل کی حمایت کی ہے۔ نیشنل پارٹی کا عوام سے رشتہ ہمیشہ گہرا اور مضبوط رہا ہے۔ عوام کی محبت اور بھرپور حمایت ہی نیشنل پارٹی کے لیے حوصلے اور طاقت کا منبع ہے۔ یہ جمہوری روایت کو زندہ رکھنے اور عوامی حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ عوام سے اس کا رشتہ ہمیشہ گہرا اور مضبوط رہے گا، کیونکہ یہ رشتہ اصولوں، اعتماد اور مشترکہ مقصد پر استوار ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومتی جماعتوں کی جانب سے انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کے پیچھے دراصل ان کا یہ خوف کارفرما ہے کہ انھیں انتخابات میں نشستیں کم ملنے کے امکانات ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، 2700 سے زائد امیدواروں میں سے محض 120 امیدوار دونوں حکمران جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی نیشنل پارٹی اور آزاد امیدوار ہیں۔ اس صورتحال میں انتخابات ملتوی کرنا عوامی مرضی کے خلاف واضح مداخلت ہے۔

کوئٹہ کے پچاس لاکھ عوام کا جمہوری حق صرف ایک ووٹ تک محدود نہیں ہے،بلکہ یہ ان کی آواز، ان کی مرضی اور ان کے مستقبل کا اظہار ہے۔ انتخابات کا التواء نہ صرف آئین اور جمہوریت کی خلاف ورزی ہے، بلکہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کا بھی باعث ہے۔ اگر عوام کے حق رائے دہی کو سلب کیا گیا، تو اس سے پیدا ہونے والی مایوسی پورے صوبے پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

جمہوریت کی مضبوطی ریاست کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کا تقاضا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، خصوصاً حکومتی اتحادی، جمہوری عمل کا احترام کریں اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انتخابات کو ہر حال میں بروقت منعقد کرانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اور نیشنل پارٹی جیسی جماعتیں ہمیشہ عوامی حقوق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہیں۔

کوئٹہ کی عوامی نمائندگی کا معاملہ محض ایک انتخابی عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔یہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کا امتحان ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عدالت عالیہ اس معاملے میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دے گی اور عوام کے جمہوری حق کو تحفظ فراہم کرے گی۔ نیشنل پارٹی عوام کے ساتھ اپنے گہرے اور مضبوط رشتے پر فخر کرتی ہے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں