حیدرآباد (این این آئی)پاک دھرتی محافظ لوورز فورم فانڈیشن کے زیر اہتمام قائد اعظم کے یوم ولادت پر ایک تقریب منعقد ہوئی، صدارت مرکزی صدر ڈاکٹر محمد اخلاق شیخ نے کی، مہمان خصوصی پروفیسر خلیل جبار، مہمان اعزازی طاہر پرویز مغل تھے۔ڈاکٹر محمد اخلاق شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کا قیام ملت اسلامیہ کی نشاط ثانیہ کی صورت میں ایک اولین قدم تھا، وہ قیام پاکستان کے بعد پورے عالم اسلام کو متحد و منظم کر کے اس کی عظمتوں کو بحال کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا قائد اعظم صاف و ستھری سیاست کے قائل تھے زندگی بھر مکر و فن کی سیاست دور رہے، ان کی سیاسی جد وجہد کا نتیجہ ہی ہے کہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔پروفیسر خلیل جبار نے کہا کہ قائد اعظم نے مایوسی اور نا امیدی کی فضا میں عزم و حوصلے کا چراغ روشن کیا، اپنی لیاقت و ہمت و معاملہ فہمی استقامت اور استقلال سے ایک ایسی مملکت وجود میں لانے کا عظیم کام سرانجام دیا جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔طاہر پرویز مغل نے کہا کہ قائد اعظم خوشامد کی بجائے اختلاف رائے کو پسند کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ قائد اعظم صاف و شفاف انتخابات پر یقین رکھتے تھے، قاضی اقبال ٹائیگر نے کہا کہ قائد اعظم میں بلا کی خود اعتمادی تھی انہیں اپنے فیصلے پر یقین کامل ہوتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیتے تھے کہ کیا یہ بات عوام کے لئے بہتر رہے گی یا نہیں، آل سادات ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حاجی ایس حمید شاہ نے کہا کہ قائد اعظم پاکستان کو سرسبز و خوش حال دیکھنا چاہتے تھے، علامہ اقبال نے جو پاکستان کا خواب دیکھا وہ قائد اعظم کی قیادت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا، ڈاکٹر اقبال خان یوسف زئی نے کہا کہ قائد اعظم اسپورٹس کی سرپرستی کرتے تھے کیونکہ وہ یہ بات جانتے تھے کہ اسپورٹس کی سرگرمیاں نوجوانوں کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے، صحت مند نوجوان ہی ملک و ملت کے لیے بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔

