فلسطین — استقامت کی داستان اور آزادی کی راہ

اداریہ

آج ایک بار پھر فلسطین کی سرزمین پر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس سرزمین کے باسی، جن کے گھر اور وطن پر تقریباً آٹھ دہائیوں سے غاصبانہ قبضہ جاری ہے، نئے سرے سے صبر و استقامت کی مشکل ترین آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک خطے کا تنازعہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور بین الاقوامی قانون کا ایک ایسا امتحان ہے جو عالمی ضمیر پر ایک داغ بن چکا ہے۔

فلسطین کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ خطہ مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ تاہم، جدید دور میں اس سرزمین کا المیہ بیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہوا، جب 1917 میں برطانوی خارجہ سکریٹری آرتھر بالفور نے یہودی قوم کے لیے فلسطین میں “قومی گھر” قائم کرنے کے وعدے پر مشتمل اعلان جاری کیا، جبکہ یہاں پر پہلے سے موجود غیر یہودی (فلسطینی) آبادی کے شہری و مذہبی حقوق کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اس کے بعد برطانیہ کے زیر انتظام رہنے والے اس خطے میں بڑے پیمانے پر یہودی نقل مکانی ہوئی۔

1947 میں، اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا، جسے فلسطینی عربوں نے مسترد کر دیا۔ 1948 میں، برطانوی انتداب ختم ہوا اور صیہونی رہنماؤں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ میں، اسرائیل نے اقوام متحدہ کی تجویز سے کہیں زیادہ رقبہ (تقریباً 78%) پر قبضہ کر لیا، اور سات سے آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کر دیا گیا یا وہ فرار ہو گئے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ واقعہ “النکبة” (المیہ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، غزہ کی پٹی، اور مغربی کنارے سمیت باقی فلسطینی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا، جو آج تک جاری ہے۔

آج فلسطین کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور دردناک ہے 2007 سے، فلسطینی علاقے سیاسی طور پر تقسیم ہیں۔ محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول مغربی کنارے تک محدود ہے، جبکہ غزہ کی پٹی پر حماس کا کنٹرول ہے۔ یہ تقسیم فلسطینی عوام کی متحدہ قیادت اور موقف کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اسرائیلی قبضہ اور آبادکاری: مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاریاں مسلسل وسیع ہو رہی ہیں۔ تقریباً 670,000 اسرائیلی آبادکار ان علاقوں میں رہ رہے ہیں، جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ان آبادکاریوں نے فلسطینی علاقوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے، جس سے آزاد اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ 2007 سے، غزہ کی پٹی اسرائیل کے زمینی، بحری اور فضائی محاصرے میں ہے، جس نے 20 لاکھ سے زیادہ انسانوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ حالیہ عشروں میں بار بار ہونے والے تباہ کن عسکری حملوں نے اس بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔
·ین الاقوامی پہچان اور جدوجہد: 2012 میں، فلسطین کو اقوام متحدہ میں “غیر رکن مبصر ریاست” کا درجہ ملا۔ اس وقت 157 سے زیادہ ممالک فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ فلسطینی قیادت مسلسل بین الاقوامی فورموں پر اپنی شناخت کو مضبوط کرنے اور اسرائیلی قبضے کو ختم کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مستقبل کا راستہ: چیلنجز اور امیدیں
فلسطینی عوام کا مستقبل چند اہم سوالوں پر منحصر ہے
دو ریاستی حل کا مستقبل: تاریخی فلسطین پر مبنی دو آزاد ریاستوں (فلسطین اور اسرائیل) کا تصور، جو اقوام متحدہ کی 1947 کی تجویز سے اب تک بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ رہا ہے، اسرائیلی آبادکاریوں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ فلسطینی قیادت کے درمیان موجودہ تقسیم کو ختم کرنا اور ایک متحد حکمت عملی اپنانا قومی مفاد میں ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے قبضے کی مذمت کے بیانات کے باوجود، اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالنے میں ناکامی مسلسل ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

فلسطین کا مسئلہ محض سرحدوں کا جھگڑا نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی آزادی، وقار اور خودارادیت کے حق کا سوال ہے۔ یہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کا سوال ہے جنہیں اپنے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ یہ ان بچوں کا سوال ہے جو محاصرے اور جنگ میں پرورش پا رہے ہیں۔

حقیقی امن صرف انصاف کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔ اس راستے کا پہلا قدم فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق، خاص طور پر آزادی اور خودارادیت کے حق کو تسلیم کرنا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ تمام ٹھوس اقدامات اٹھائے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے متعدد قراردادوں کے مطابق، فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق دلا سکیں۔

فلسطین کی آزادی تک، انصاف کا سفر ادھورا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں