بلوچستان کی سیاسی صورتحال: ناکام حکمرانی اور بڑھتا ہوا اعتماد کا بحران

اداریہ

بلوچستان کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا رہی ہے کہ محض حکومتوں کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب تک طرزِ حکمرانی میں سنجیدہ اصلاحات نہ کی جائیں۔ صوبہ طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، غیر نمائندہ فیصلوں اور عوامی مفادات سے لاتعلق قیادت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ بار بار سیاسی جوڑ توڑ، اقتدار کی کشمکش اور غیر شفاف فیصلوں نے جمہوری عمل کو کمزور اور عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار جیسے مسائل دہائیوں سے فہرست میں شامل ہیں مگر عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ صوبائی سیاست میں اصل مسائل کے بجائے اقتدار کے کھیل کو فوقیت دی جاتی رہی ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے۔
مرکز اور صوبے کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم پر کشیدگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے باوجود بلوچستان کو وہ خودمختاری اور وسائل میسر نہیں آ سکے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس صورتحال نے احساسِ محرومی کو مزید تقویت دی، سیاسی قیادت کی یہ ناکامی ہے کہ وہ عوام کے تحفظات کو بروقت اور مؤثر انداز میں حل نہ کر سکی۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو نوجوانوں کی مایوسی ہے۔ روزگار کے مواقع کی کمی، غیر یقینی مستقبل اور سیاسی بے حسی نے نوجوان نسل کو ریاستی اور سیاسی عمل سے دور کر دیا ہے۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو وقتی بیانات اور نمائشی اقدامات کے بجائے سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا حقیقی احترام کیا جائے، مقامی قیادت کو فیصلوں میں مرکزی کردار دیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سیاسی استحکام، بہتر حکمرانی اور عوامی شمولیت کے بغیر بلوچستان کا مسئلہ حل ہونا ممکن نہیں۔ اگر ریاست اور سیاسی قیادت نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں