بینظیر بھٹو کی شہادت—پاکستان ایک بہادر جمہوری رہنما سے محروم

اداریہ

بینظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المناک اور فیصلہ کن لمحہ ہے۔ ان کی رحلت سے ملک ایک ایسی رہنما سے محروم ہو گیا جو جمہوریت، عوامی حقوق اور آئینی بالادستی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم تھیں، جنہوں نے مشکل ترین حالات میں قیادت کا فریضہ انجام دیا۔
بینظیر بھٹو کا سیاسی سفر جدوجہد، قربانی اور استقامت سے عبارت تھا۔ آمریت کے سائے میں جمہوری اقدار کے لیے ان کی آواز توانا رہی۔ قید و بند، جلاوطنی اور سیاسی دباؤ کے باوجود انہوں نے عوام سے رشتہ کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کا یقین تھا کہ پاکستان کی مضبوطی جمہوریت، آئین اور عوامی شمولیت میں ہے۔
ان کی شہادت نے قوم کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل کو درپیش چیلنجز کتنے سنگین ہیں۔ تشدد اور عدم برداشت نے نہ صرف ایک رہنما کی جان لی بلکہ قومی یکجہتی اور اعتماد کو بھی زک پہنچائی۔ اس سانحے کے بعد ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کریں اور سیاست کو تشدد سے پاک رکھیں۔
بینظیر بھٹو کی وراثت صرف سیاسی کامیابیوں تک محدود نہیں؛ وہ نوجوانوں، خواتین اور محروم طبقات کے لیے امید کی کرن تھیں۔ تعلیم، صحت اور سماجی انصاف ان کے منشور کا مرکزی حصہ تھا۔ ان کے نظریات آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے عوام دوست پالیسیاں اور جمہوری تسلسل ناگزیر ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی قربانی سے سبق سیکھیں۔ جمہوریت کی حفاظت، آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بینظیر بھٹو کی شہادت نے ہمیں ایک قیمتی رہنما سے محروم کیا، مگر ان کے اصول اور جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ قومیں افراد سے نہیں، اقدار سے زندہ رہتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں