ریکوڈک منصوبہ — ترقی یا ایک اور محرومی؟

اداریہ

ریکوڈک منصوبہ بظاہر پاکستان کے لیے معاشی ترقی اور زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع قرار دیا جا رہا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی بلوچستان کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا یا ماضی کی طرح وسائل تو نکلیں گے مگر محرومیاں برقرار رہیں گی؟
بلوچستان دہائیوں سے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندگی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ گیس، کوئلہ اور معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن نے آج تک صوبے کے عام شہری کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں لائی۔ ایسے میں ریکوڈک جیسے میگا منصوبے پر اندھا اعتماد کرنا دانشمندی نہیں بلکہ محتاط تنقید اور کڑی نگرانی ناگزیر ہے۔
حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریکوڈک سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ایسے منصوبوں میں مقامی افراد کو نظرانداز کیا گیا۔ اگر اس بار بھی بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور فنی تربیت میں ترجیح نہ دی گئی تو یہ منصوبہ احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرے گا۔
مزید یہ کہ ماحولیاتی اثرات ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں۔ پانی کی قلت کا شکار علاقہ اگر غیر ذمہ دارانہ کان کنی کی زد میں آیا تو مقامی آبادی کے لیے زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ ترقی کے نام پر ماحول کو تباہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
ریکوڈک منصوبہ تب ہی کامیاب کہلائے گا جب اس کا پہلا اور سب سے بڑا فائدہ بلوچستان کو ملے۔ شفاف معاہدے، صوبائی خودمختاری کا احترام، مقامی آبادی کی شمولیت اور منافع کی منصفانہ تقسیم کے بغیر یہ منصوبہ ترقی نہیں بلکہ ایک اور استحصال کی مثال بن جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست محض وسائل نکالنے کے بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری کرے۔ اگر بلوچستان کو واقعی ترجیح دی گئی تو ریکوڈک امید بن سکتا ہے، ورنہ تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرا دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں