یمن نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا، اسلحے کی کھیپ کو نشانہ بنایا

سعودی عرب نے منگل کو یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے ابوظبی کے اقدامات کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔ 

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یمن کی حکومت کے مطالبے پر اپنی تمام افواج 24 گھنٹے میں یمن سے نکال لے۔

سعودی وزارت خارجہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا جب یمن میں سعودی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے کہا کہ اس نے علیحدگی پسند فورسز کے لیے متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں کی کھیپ پر حملہ کیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ابو ظبی کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے جو سابقہ آزاد ریاست جنوبی یمن کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں ہیں حالیہ ہفتوں میں حملوں کے بعد وسیع کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

یمن کی صدارتی کونسل کے رہنما، رشاد العلیمی جو اس حکومت کے سربراہ ہیں، نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی جانب سے علاقے کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور ابو ظبی کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کر دیا۔

منگل کو سعودی قیادت میں عرب اتحادی افواج نے یمن کی بندرگاہ مکلا میں ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی سمگلنگ کرنے والے دو جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ‘محدود’ فضائی کارروائی کی۔

یہ جہاز متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ سے مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے اور اس کے لیے مشترکہ فورسز کمانڈ سے کسی طرح کا سرکاری اجازت نامے حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو بحری جہاز ہفتے اور اتوار کو ’اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر مکلا کی بندرگاہ میں داخل ہوئے۔‘

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت برادر ملک متحدہ عرب امارات پر زور دیتی ہے کہ وہ یمن کی حکومت کے مطالبے پر 24 گھنٹوں میں وہاں سے نکل جائے اور ’یمن کے اندر کسی بھی فریق کی فوجی یا مالی مدد روکنے کی درخواست کو قبول کیا۔‘

’اس سلسلے میں مملکت کو امید ہے کہ دانشمندی، بھائی چارے کے اصول، اچھی ہمسائیگی، خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور برادر یمن کا مفاد غالب رہے گا۔‘

بیان میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی قومی سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے اور  وہ ایسے خطرات کا مقابلہ کرنے اور انہیں بے اثر کرنے کے لیے کسی بھی طرح کے ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

مکلا میں محدود فضائی کارروائی

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے منگل کو یمن کے ساحلی شہر مکلا پر ایک محدود فضائی حملے میں علیحدگی پسند فورس کے لیے  پہنچنے والی اسلحے کی کھیپ کو نشانہ بنایا۔

یہ امداد مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے یہاں پہنچی تھی۔  امارات کی طرف سے فوری پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ نے منگل کو اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے کہا ہے کہ 27 اور 28 دسمبر کو دو جہاز فجیرہ کی بندرگاہ سے مکلا کی بندرگاہ پر اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے کوئی اجازت نامہ لیے بغیر پہنچے تھے۔

میجر جنرل المالکی نے کہا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست کی بنیاد پر اتحادی افواج نے وہاں شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کیں۔ ’یہ اسلحہ امن و استحکام کے لیے خطرہ اور اشتعال انگیزی کا باعث ہے، اتحاد کی فضائیہ نے آج صبح ایک محدود عسکری کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ان ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو دو جہازوں سے بندرگاہ مکلا پر اتاری گئی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مکمل دستاویزی شواہد کے بعد، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ان کے رائج اصولوں کے مطابق اس انداز میں کی گئی کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتحادی فضائیہ نے منگل کو علی الصبح ایک محدود فوجی کارروائی کی جس میں ان لوڈ بندرگاہ پر اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ہتھیاروں کی منتقلی کے دستاویزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہونے کے بعد کی گئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ادارے نے اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل جاننے کی درخواست کی لیکن اس فوری جواب نہیں ملا۔

سوشل میڈیا پر اس متعلق ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جو بظاہر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کی مدد سے لی گئی ہے۔

اتحاد کے ساتھ پچھلے معاہدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، جنوبی عبوری کونسل، یا ایس ٹی سی کہلانے والے گروپ نے دسمبر کے اوائل میں ایک وسیع فوجی مہم شروع کی، جس میں حضرموت کے صوبوں کو سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ اور یمن کی عمان کے ساتھ سرحد پر مشرقی صوبے المہرہ کو قبضہ کر لیا۔

متحدہ عراب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی فورسز نے اس دوران سیئون شہر پر قبضہ کر لیا، جس میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور صدارتی محل شامل ہیں۔ جبکہ انہوں نے پیٹرو مسیلا کے اسٹریٹجک تیل کی کنوؤں کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا، جو یمن کی باقی ماندہ تیل کی دولت کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

ایس ٹی سی سے سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دے اور اس کا کنٹرول سعودی حمایت یافتہ یونٹ کے حوالے کرے۔

عرب اتحاد نے خبردار کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے فوری طور پر نمٹا جائے گا تاکہ شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔

26 دسمبر کو، یو اے ای نے یمن میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیاتھا۔ یو اے ای کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے ذریعے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب کے یمنی عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے اور ان کی استحکام اور خوشحالی کی جائز خواہشات کی حمایت میں تعمیری کردار کی تعریف کی گئی۔ 

یمن کا ایمرجنسی کا اعلان

یمن کی صدارتی کونسل کے رہنما نے منگل کو ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور ابو ظہبی کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے علاقے پر قبضے کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کر دیا۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ  ’متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے‘ جبکہ ایک الگ حکم نامے میں 90 دن کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا جس میں 72 گھنٹے کی فضائی، سمندری اور زمینی ناکہ بندی شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں