گوادر نام، شناخت اور تاریخی حقیقت

اداریہ

بلوچستان کی سرزمین، بلوچ تاریخ کی امانت
لوگوں کو آج بھی گوادر کا نام درست طور پر لینا نہیں آتا۔ گوادر محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک تاریخی شناخت ہے، جس کا اصل تلفظ “گْوات ءِ دَر” ہے، یعنی ہوا کا دروازہ۔ یہ نام خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ گوادر کی تہذیبی، لسانی اور جغرافیائی جڑیں صدیوں سے بلوچ سرزمین میں پیوست ہیں۔
بلوچ قوم کو شناخت کا مسئلہ اس لیے درپیش نہیں کہ اس نے کبھی اپنی شناخت بدلی نہیں۔ مسئلہ اُن بیانیوں کا ہے جو تاریخ سے ناواقف یا دانستہ مسخ شدہ کہانیاں پھیلا کر حقائق کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔

یہ دعویٰ کہ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا اور اسے “وفاق نے عمان سے خریدا” ایک ادھوری اور گمراہ کن بات ہے۔ جو لوگ یہ مؤقف اپناتے ہیں، انہیں تاریخ کا مطالعہ اور سچ تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔
تاریخی حقیقت کیا ہے؟
برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے بہت پہلے گوادر بلوچستان کا حصہ تھا۔
1783ء میں
خانِ قلات میر نوری نصیر خان بلوچ (اول) کے دور میں،
عمان کے شہزادے تیمور سلطان (جو نصیر خان کے بہنوئی بھی تھے) کو عمانی تخت کے تنازعے کے باعث گوادر میں پناہ دی گئی۔
نصیر خان نے گوادر کی ملکیت منتقل نہیں کی بلکہ:
صرف انتظامی نگرانی
اور رزق کے لیے محدود آمدنی جمع کرنے کی اجازت دی۔
اہم نکتہ:
یہ ایک سیاسی پناہ اور وقتی انتظام تھا، نہ کہ زمین کی فروخت یا حاکمیت کی منتقلی۔
برطانوی کردار اور عمانی انتظام
جب انگریزوں نے اس خطے میں اثر و رسوخ بڑھایا تو انہوں نے:
عمانی انتظامیہ کی حمایت کی
گوادر کو اپنے بحری اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کیا
یہی وجہ تھی کہ:
تیمور سلطان کا تنازعہ ختم ہونے کے باوجود گوادر طویل عرصہ عمانی انتظام میں رہا
مگر انتظام ≠ ملکیت یہ فرق جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔
گوادر کی واپسی: خرید یا تصحیحِ تاریخ؟
گوادر کی پاکستان میں شمولیت فیروز خان نون کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں ممکن ہوئی۔
اس عمل کی اصل نوعیت:
آغا خان چہارم نے مالی معاونت فراہم کی
عمان کو دی جانے والی رقم:
زمین کی قیمت نہیں تھی
بلکہ گوادر میں عمانی دور میں ہونے والی:
ترقیاتی سرگرمیوں
انفراسٹرکچر
کے معاوضے کے طور پر تھی
یہ ایک انتظامی تصفیہ تھا، نہ کہ زمین کی خرید و فروخت۔
“عمان نے گوادر بیچ دیا” — ایک تاریخی جھوٹ
یہ کہنا کہ عمان نے مالی بدحالی کے باعث گوادر بیچ دیا:
تاریخی طور پر غلط ہے
عمان کبھی اس نہج پر نہیں تھا کہ بقا کے لیے زمین بیچتا
تلخ سچ یہ ہے کہ:
زمینیں کرائے پر دینے
خودمختاری پر سمجھوتے کرنے
کی تاریخ کسی اور کے کھاتے میں جاتی ہے، عمان کے نہیں۔
ایک اور اہم حقیقت
عمان کے زیرِ انتظام صرف گوادر شہر تھا
جو چند ایکڑ پر مشتمل تھا
پورا ضلع گوادر کبھی عمان کا حصہ نہیں رہا
یہ فرق بھی اکثر جان بوجھ کر مٹایا جاتا ہے تاکہ تاریخ کو من مانی شکل دی جا سکے۔
نتیجہ: تاریخ کو داستانوں سے آزاد کیجیے
اگر ہم:
عوامی کہانیوں
خود ساختہ بیانیوں
کے بجائے حقیقی تاریخ پڑھنے پر وقت صرف کرتے،
تو شاید:
یہ ملک فکری طور پر زیادہ مضبوط ہوتا
اور قومیں اپنی اصل پہچان کے ساتھ کھڑی ہوتیں
گوادر تھا، ہے، اور رہے گا بلوچستان کا حصہ —
یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی حقیقت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں