پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث چمن بارڈر کی بندش

اداریہ

چمن بارڈر کی بندش: علاقائی امن، معیشت اور عوام کے لیے خطرے کی گھنٹی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر سرحدی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جس کا واضح ثبوت چمن بارڈر کی بندش ہے۔ یہ سرحدی گزرگاہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی اور علاقائی روابط کا مرکز بھی ہے۔ چمن بارڈر کی بندش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی اور سیکیورٹی تنازعات کا سب سے بڑا بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
چمن بارڈر کی بندش کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات، سیکیورٹی خدشات اور باہمی اعتماد کی کمی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے شدت پسند عناصر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان اختلافات نے رفتہ رفتہ کشیدگی کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ سرحد بند کرنا ناگزیر سمجھا گیا۔
اس بندش کے فوری اثرات نہایت سنگین ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد علاج، تعلیم، تجارت اور روزگار کے لیے اس سرحد کو عبور کرتے تھے۔ بارڈر بند ہونے سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ، مزدور طبقے کی بے روزگاری اور مقامی معیشت کی تباہی جیسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غربت اور بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی امن کے تناظر میں بھی چمن بارڈر کی بندش تشویشناک ہے۔ سرحدی کشیدگی نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے مسائل حل کرنے کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی دیرپا حل فراہم کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک جذبات سے بالاتر ہو کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ باہمی اعتماد سازی کے اقدامات، مشترکہ سیکیورٹی نظام اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنا کر ہی ایسے مسائل کا حل ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عام شہریوں اور تاجروں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ اس سیاسی کشمکش کا ایندھن نہ بنیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چمن بارڈر کی بندش ایک عارضی اقدام ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہیں۔ اگر پاکستان اور افغانستان نے بروقت دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو اس کشیدگی کا نقصان صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا خطہ اس کی قیمت چکانے پر مجبور ہوگا۔ امن، مکالمہ اور تعاون ہی وہ راستہ ہے جو دونوں ہمسایہ ممالک کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں