تربت–تمپ–مند-بلو روڈ: وعدوں کی گرد میں دفن عوامی حق

اداریہ
تربت، تمپ،مند، بلو کو ملانے والا مرکزی روڈ محض ایک سڑک نہیں بلکہ علاقے کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر طلبہ کا مستقبل، مریضوں کی زندگیاں، تاجروں کا روزگار اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی چلتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ روڈ آخر کب مکمل ہوگا؟
سالہا سال گزر چکے ہیں، مگر یہ منصوبہ آج بھی ادھورا، ٹوٹا پھوٹا اور خاک آلود ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے اس سڑک کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا، ہر وزیر نے اعلانات کیے، ہر بجٹ میں فنڈز رکھے گئے، مگر زمین پر آج بھی عوام دھول، گڑھوں اور حادثات کے رحم و کرم پر ہیں۔
یہ روڈ ترقی کی علامت بننا تھا، مگر بدقسمتی سے یہ بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن کی علامت بن چکا ہے۔ آئے دن حادثات، ایمبولینسوں کی تاخیر، اسکول جانے والے بچوں کی مشکلات اور کاروبار کی تباہی — یہ سب کس کے کھاتے میں جائیں گے؟
کیا کسی نے کبھی اس منصوبے کے ذمہ داروں سے پوچھا کہ رقوم کہاں گئیں؟ کام کہاں رکا؟ اور جواب دہی کب ہوگی؟
حکومتی محکموں کی خاموشی اور منتخب نمائندوں کی بے حسی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مسائل ان کی ترجیح نہیں رہے۔ اگر یہی سڑک کسی بڑے شہر میں ہوتی تو کیا اسے یوں برسوں لٹکایا جاتا؟
یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟
تربت–تمپ–مند-بلو روڈ پر تاخیر دراصل عوام کے ساتھ ایک مسلسل ناانصافی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تصاویر، فیتے اور بیانات تو بہت ہیں، مگر عمل ندارد۔ عوام اب اعلانات نہیں، واضح ٹائم لائن، شفاف تحقیقات اور فوری تکمیل چاہتے ہیں۔
حکومتِ بلوچستان، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، اور منتخب نمائندوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ سڑکیں نہ بنانا محض انتظامی ناکامی نہیں، یہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس منصوبے کو سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوامی ذمہ داری سمجھا جائے۔
ورنہ تاریخ گواہ رہے گی کہ ایک اہم شاہراہ وعدوں کی گرد میں دفن ہو کر رہ گئی — اور عوام صرف سوال ہی کرتے رہ گئے۔
سوال اب بھی وہی ہے:
تربت–تمپ–مند-بلو کا روڈ آخر کب مکمل ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں