ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج—مسئلے کا حل تشدد نہیں، اصلاحات ہیں

اداریہ

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے خلاف حالیہ دنوں میں کئی شہروں میں ہونے والے احتجاج نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ جب بنیادی ضروریات عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائیں تو معاشرتی بے چینی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ شہروں میں مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں جانی نقصان بھی ہوا۔ یہ صورتِ حال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا پیغام بھی رکھتی ہے۔
ایران کی معیشت طویل عرصے سے بین الاقوامی پابندیوں، کمزور کرنسی، بلند افراطِ زر اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی نے خوراک، ایندھن اور روزمرہ اشیا کو عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ ایسے میں احتجاج ایک فطری ردِعمل ہو سکتا ہے، مگر تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پرتشدد جھڑپیں صرف انسانی جانوں کے ضیاع اور سماجی تقسیم کو گہرا کرتی ہیں، جبکہ اصل مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی غصے کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے مکالمے اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے حل کرے۔ شفاف معاشی حکمتِ عملی، سبسڈی کے منصفانہ نظام، روزگار کے مواقع اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کریں تاکہ ان کی آواز دبنے کے بجائے سنی جا سکے۔
بین الاقوامی برادری کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ پابندیوں کے انسانی اثرات کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ معاشی دباؤ کا بوجھ بالآخر عام شہری ہی اٹھاتا ہے، جس کے نتائج سماجی بے چینی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
آخرکار، ایران سمیت کسی بھی معاشرے میں پائیدار استحکام کا راستہ تشدد نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور معاشی اصلاحات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ریاست اور عوام دونوں تحمل، مکالمے اور اصلاح کی راہ اپنائیں تو موجودہ بحران کو ایک بہتر مستقبل کی بنیاد میں بدلا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں