وینزویلا کی خودمختاری پر امریکی حملہ

اداریہ

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جارحانہ پالیسی ایک بار پھر عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جمہوریہ بولیواریہ وینزویلا کے خلاف طاقت کے استعمال اور صدر نکولس مادورو کے مبینہ غیر قانونی اغوا جیسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی توہین ہیں۔
امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف خطوں میں سیاسی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور براہِ راست مداخلت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ وینزویلا کے معاملے میں بھی یہی سامراجی سوچ کارفرما نظر آتی ہے، جس کا مقصد ایک خودمختار ریاست کو اپنے سیاسی اور معاشی فیصلوں سے دستبردار کرانا ہے۔ کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں اس نوعیت کی مداخلت عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔
وینزویلا کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، بغیر کسی بیرونی دباؤ یا جارحیت کے۔ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طاقتور ریاستوں کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے اور کمزور ممالک کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائے۔
ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس امر پر زور دیتے ہیں کہ عالمی مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں مضمر ہے۔ سامراجی مداخلت اور جارحیت کو مسترد کیے بغیر ایک منصفانہ اور پُرامن عالمی نظام کا قیام ممکن نہی ۔ا

اپنا تبصرہ بھیجیں