اداریہ
ضلع کیچ اور پورا مکران ڈویژن اس وقت عملاً ریاستی کنٹرول سے باہر جا چکا ہے۔ یہاں نہ قانون کی بالادستی ہے، نہ شہریوں کی جان و مال کی کوئی ضمانت۔ اغوا برائے تاوان ایک وقتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے یا تو ریاستی سرپرستی حاصل ہے یا ریاستی غفلت نے اسے طاقتور بنا دیا ہے۔
ایک ماہ قبل پنجگور میں صوبائی اسمبلی کے رکن کے بھائی کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں تھا بلکہ ریاستی رِٹ کا جنازہ تھا۔ یہ واقعہ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ مکران میں قانون صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور مجرم کے لیے نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سنگین واقعے کے بعد بھی نہ کوئی بڑی گرفتاری ہوئی، نہ کسی اعلیٰ افسر نے اخلاقی ذمہ داری قبول کی۔
آج تربت میں اغوا برائے تاوان کے خلاف ہزاروں مرد و خواتین کا سڑکوں پر نکلنا اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب ریاست پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کا شو نہیں بلکہ خوف، عدم تحفظ اور مسلسل ناانصافی کے خلاف عوامی بغاوت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام کو اپنی حفاظت کے لیے خود نکلنا پڑے تو حکومت آخر کس لیے وجود رکھتی ہے؟
حکمرانوں کی خاموشی، انتظامیہ کی بے حسی اور پولیس کی ناکامی نے مکران کو مجرموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو تاریخ گواہ رہے گی کہ مکران کو بندوق سے نہیں بلکہ غفلت اور نااہلی سے ریاست سے کاٹا گیا۔

