گوادر ایئرپورٹ تعمیر مکمل، پروازیں معطل — ایک قومی سوال

اداریہ
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں چین کی مالی اور تکنیکی معاونت سے تعمیر ہونے والا جدید بین الاقوامی ایئرپورٹ پاکستان کے لیے ایک علامتی اور تزویراتی منصوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اس ایئرپورٹ کو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کو خطے کا اہم تجارتی اور لاجسٹک مرکز بنانے کے وژن کا عملی مظہر قرار دیا گیا۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تعمیر مکمل ہونے کے باوجود طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کے باقاعدہ اور بھرپور آپریشن شروع نہ ہو سکے، جس نے حکومتی ترجیحات، انتظامی صلاحیت اور مقامی ضروریات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر کا مقصد نہ صرف مسافروں کی آمدورفت کو آسان بنانا تھا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری، تجارت اور سیاحت کے دروازے کھولنا بھی تھا۔ ایک جدید رن وے، وسیع ٹرمینل اور کارگو سہولیات کے ساتھ یہ ایئرپورٹ گوادر کو دبئی، مسقط اور وسط ایشیا سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقامی آبادی کو روزگار، کاروبار اور بہتر سفری سہولیات کی امید دلائی گئی تھی۔
آپریشن میں تاخیر کی متعدد وجوہات بتائی جاتی ہیں۔
اوّل، سیکیورٹی خدشات—گوادر اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بنانے میں وقت لگا۔
دوم، تکنیکی و انتظامی مسائل—ائیر ٹریفک کنٹرول، ایئرلائنز کی دلچسپی، اور سول ایوی ایشن کے اندر ہم آہنگی کی کمی نے عمل کو سست کیا۔
سوم، طلب اور مارکیٹ کا سوال—گوادر میں آبادی کم، کاروباری سرگرمیاں محدود اور سیاحت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، جس کے باعث ایئرلائنز باقاعدہ آپریشن سے ہچکچاہٹ کا شکار رہیں۔
چہارم، پالیسی عدم تسلسل—حکومتی تبدیلیوں اور ترجیحات کے اتار چڑھاؤ نے منصوبے کو متاثر کیا۔
مقامی آبادی پر اثرات
ایئرپورٹ کے غیر فعال رہنے کا سب سے بڑا نقصان گوادر کے عوام کو ہوا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود رہے، کاروباری سرگرمیوں میں وہ تیزی نہ آ سکی جس کا وعدہ کیا گیا تھا، اور عوام آج بھی بنیادی سفری سہولیات کے لیے طویل اور مشکل زمینی راستوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی سطح پر احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا ہے۔
قومی اور بین الاقوامی مضمرات
یہ تاخیر پاکستان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ چین جیسے قریبی شراکت دار کی معاونت سے بننے والے منصوبے کا غیر فعال رہنا سی پیک کے مجموعی تاثر کو نقصان پہنچاتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں میں شکوک پیدا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض افتتاحی تقاریب سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔
سیکیورٹی اور سول ایوی ایشن کے اداروں میں مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
ایئرلائنز کو مراعات دے کر گوادر کے لیے پروازیں شروع کروائی جائیں۔
مقامی معیشت، ماہی گیری، سیاحت اور بندرگاہی سرگرمیوں کو فعال بنا کر سفری طلب پیدا کی جائے۔
مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات براہِ راست انہیں ملیں۔
گوادر ایئرپورٹ محض ایک عمارت نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور پاکستان کے مستقبل سے جڑی امید ہے۔ اگر یہ منصوبہ کاغذی دعوؤں اور ادھورے آپریشن تک محدود رہا تو یہ ایک ضائع شدہ موقع کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نیت، پالیسی اور عمل تینوں کو ایک سمت میں لا کر گوادر کو وہ مقام دیا جائے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں