اداریہ
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی سے جڑا ہوا حب آج بھی بے روزگاری، محرومی اور نظراندازی کی علامت بنا ہوا ہے۔ یہاں فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں، دھواں حب کی فضا میں اٹھتا ہے، زمین حب کی استعمال ہوتی ہے، مگر روزگار کراچی سے لائے گئے مزدوروں کو دیا جاتا ہے۔
یہ سوال نہیں بلکہ الزام ہے کہ آخر حب کے نوجوان کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں؟
فیکٹری مالکان حب سے باہر کے ہیں،
ان کے دفاتر کراچی میں ہیں،
ان کے بینک اکاؤنٹس کراچی میں ہیں،
منافع کراچی جاتا ہے،
لیکن ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک، شور اور غربت حب کے حصے میں آتی ہے۔
یہ کیسی صنعت کاری ہے؟
یہ کیسا “ترقی” کا ماڈل ہے؟
بینک مقامی تاجروں کو قرض نہیں دیتے کیونکہ کمپنیوں کے اکاؤنٹس حب میں نہیں،
جبکہ یہی بینک بڑے صنعت کاروں کو سرخ قالین بچھا کر سہولتیں دیتے ہیں۔
یہ کھلا معاشی امتیاز نہیں تو اور کیا ہے؟
ہم واضح الفاظ میں کہتے ہیں:
حب کی فیکٹریوں میں لوکل کوٹہ لازم کیا جائے
کمپنیوں کے رجسٹرڈ آفس اور اکاؤنٹس حب میں منتقل کیے جائیں
مقامی نوجوانوں کو ہنر مندی اور روزگار کی ضمانت دی جائے
بینکوں کو مقامی کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی راہ کھولنی ہوگی
اگر حب صرف زمین، وسائل اور خاموشی دینے کے لیے ہے اور بدلے میں بھوک، بیروزگاری اور محرومی ملے—
تو یہ ترقی نہیں، استحصال ہے۔
حب کے عوام مزید خاموش نہیں رہیں گے۔
یہ حق مانگنے کا نہیں، حق لینے کا وقت ہے۔

