اداریہ
پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، ان میں مہنگائی سرفہرست ہے۔ اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ محدود آمدن رکھنے والا طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے جبکہ متوسط طبقہ بھی تیزی سے غربت کی لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال صرف معاشی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں کمزور معاشی نظم و نسق، بڑھتا ہوا قرض، کرنسی کی قدر میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور ٹیکس نظام کی ناکامی شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت وقتی اقدامات پر اکتفا کرتی رہی ہے جبکہ دیرپا اصلاحات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ نتیجتاً مسائل جوں کے توں رہے بلکہ مزید گمبھیر ہوتے گئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی پالیسی اختیار کرے۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، زرعی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی کم آمدنی والے طبقات کے لیے مؤثر سماجی تحفظ کے پروگراموں کو شفاف اور مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومت نہیں بلکہ تمام ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے بااثر طبقات کو قومی مفاد میں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر بروقت اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو مہنگائی نہ صرف عوام کا اعتماد مزید مجروح کرے گی بلکہ ملک کے سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
اداریہ کا مقصد محض نشاندہی نہیں بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ عوام کی معاشی مشکلات کا حل ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے چشم پوشی کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
Load/Hide Comments

