ڈیجیٹل خواندگی اور جھوٹی خبروں کا بڑھتا ہوا چیلنج

اداریہ
موجودہ دور کو اگر معلومات کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اسی کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بھی جنم لے چکا ہے، اور وہ ہے جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ڈیجیٹل خواندگی کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
آج سوشل میڈیا پر ہر شخص خبر رساں بنا ہوا ہے۔ بغیر تصدیق کے خبریں، ویڈیوز اور پیغامات آگے بڑھا دیے جاتے ہیں، جن کے اثرات بعض اوقات معاشرتی انتشار، خوف و ہراس اور غلط فہمیوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ جھوٹی خبریں نہ صرف افراد کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ریاستی اداروں اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔
ڈیجیٹل خواندگی سے مراد صرف موبائل یا انٹرنیٹ کا استعمال سیکھنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ کون سی خبر مستند ہے، کس ذریعے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کیوں ضروری ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل اخلاقیات اور میڈیا لٹریسی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔
حکومت، تعلیمی اداروں اور میڈیا تنظیموں کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کو شامل کرنا، عوامی آگاہی مہمات چلانا اور ذمہ دار صحافت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لازم ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کے سدباب کے لیے مؤثر نظام متعارف کرائیں۔
عوام کی سطح پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے پھیلانے سے پہلے اس پر غور کریں۔ ایک غیر ذمہ دارانہ شیئر محض چند سیکنڈ میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمیں بطور قوم یہ سیکھنا ہوگا کہ خاموشی سے ہر پیغام پر یقین کرنے کے بجائے سوال اٹھانا اور تحقیق کرنا ہی باشعور معاشرے کی علامت ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم نے ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ داری اور شعور کا مظاہرہ نہ کیا تو معلومات کی یہ آزادی ہمارے لیے رحمت کے بجائے زحمت بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سچ اور جھوٹ میں فرق پہچاننے کی صلاحیت پیدا کریں تاکہ ایک مثبت، باشعور اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں