اداریہ
ایران اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک گیر احتجاجات، معاشی بدحالی اور سخت حکومتی اقدامات نے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ صورتِ حال محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والے عوامی غم و غصے کا اظہار ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری اور ایرانی کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ نوجوان نسل اپنے مستقبل سے مایوس دکھائی دیتی ہے۔ یہی معاشی دباؤ احتجاجات کی اصل بنیاد بنا، جو اب سیاسی اور سماجی مطالبات میں تبدیل ہو چکا ہے۔
حکومت نے ان احتجاجات کا جواب سخت سکیورٹی اقدامات، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام کی بندش کی صورت میں دیا ہے۔ اگرچہ ریاست ان اقدامات کو امن و امان کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، لیکن انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی برادری انہیں جبر اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن سے تعبیر کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایران دباؤ میں ہے۔ مغربی ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی ایران کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔ ایسے میں داخلی عدم استحکام، خارجی دباؤ کے ساتھ مل کر ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ایرانی قیادت طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، معاشی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی پر توجہ دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی آواز کو دبانے کے بجائے سننا ہی ریاستوں کے استحکام کی ضمانت بنتا ہے۔ بصورتِ دیگر، موجودہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

