اداریہ
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو ملک کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی نظام میں اس کی حیثیت ایک نوآبادی سے زیادہ نہیں۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق محض ڈیڑھ کروڑ آبادی پر مشتمل یہ خطہ سات دہائیوں سے محض وعدوں، اعلانات اور فوجی نقشوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ اتنے وسیع رقبے کے باوجود بلوچستان آج بھی اس ملک کا سب سے محروم، سب سے نظرانداز اور سب سے کمزور صوبہ ہے—اور یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے۔
بلوچستان کے قدرتی وسائل پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے رہے، مگر خود بلوچستان ہمیشہ تاریکی میں رکھا گیا۔ سوئی گیس 1950 کی دہائی سے نکل رہی ہے، مگر آج بھی بلوچستان کے دیہات لکڑی اور کوئلے پر کھانا پکاتے ہیں۔ تانبا، سونا، کوئلہ اور معدنیات اربوں ڈالر کماتے ہیں، مگر ان وسائل کے اصل وارث بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ریکوڈک جیسے منصوبے طاقتور حلقوں کے لیے سونے کی کان ثابت ہوئے، جبکہ مقامی آبادی کے حصے میں صرف گرد و غبار، بے روزگاری اور خوف آیا۔
اعداد و شمار کسی بیانیے کے محتاج نہیں۔ بلوچستان میں 40 فیصد سے زائد آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، شرحِ خواندگی قومی اوسط سے کہیں نیچے ہے، اور خواتین کے لیے تعلیم محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہزاروں مربع کلومیٹر پر چند ہسپتال، محدود ڈاکٹر اور ٹوٹا ہوا نظام صحت اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا بلوچ شہری واقعی اسی آئین کے تحت زندہ ہیں جس کا حوالہ بار بار دیا جاتا ہے؟
گوادر اور CPEC کو ترقی کے معجزے کے طور پر پیش کیا گیا، مگر بلوچستان کے عوام کے لیے یہ منصوبے روزگار نہیں بلکہ بے دخلی، زمینوں پر قبضے اور عسکری چوکیوں کی علامت بن گئے۔ جس ترقی میں مقامی انسان شامل نہ ہو، وہ ترقی نہیں بلکہ جبر ہوتی ہے—اور بلوچستان میں یہی جبر “قومی مفاد” کے نام پر مسلط کیا گیا۔
ریاست مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی کہ مسئلہ سکیورٹی کا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر سات دہائیوں میں محرومی ختم نہیں ہوئی تو مسئلہ بندوق نہیں، پالیسی ہے۔ لاپتہ افراد، اجتماعی قبریں، خاموش قبائل اور خوف زدہ آوازیں کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی بے حسی کا عکس ہیں۔ اعتماد بندوق سے نہیں، انصاف سے بحال ہوتا ہے—اور انصاف بلوچستان کو کبھی دیا ہی نہیں گیا۔
بلوچستان پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ ریاست کے ضمیر پر ایک فردِ جرم ہے۔ جب تک اس صوبے کو محض سرحدی بفر، معدنی گودام اور سکیورٹی زون سمجھا جاتا رہے گا، تب تک قومی یکجہتی ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہے گی۔ اگر بلوچستان کے زخموں پر مرہم کے بجائے خاموشی مسلط رکھی گئی تو تاریخ یاد رکھے گی کہ یہ علیحدگی کا شور نہیں تھا—یہ ناانصافی کا منطقی انجام تھا۔

