گوادر پورٹ کو مکمل آپریشنل کرنے میں China Overseas Ports Holding Company (COPHC) کی ناکامی

اداریہ

گوادر پورٹ کو پاکستان کے معاشی مستقبل کی بنیاد اور سی پیک کا مرکزی ستون قرار دیا گیا، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ بندرگاہ آج بھی غیر فعال، ویران اور تجارتی اعتبار سے تقریباً ناکام منصوبہ بنی ہوئی ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود گوادر پورٹ کا فعال نہ ہونا کسی تکنیکی مجبوری کا نہیں بلکہ بندرگاہ کے آپریٹرز Overseas Ports Holding Company (COPHC) کی صریح نااہلی، ناقص انتظامی صلاحیت اور عدم سنجیدگی کا نتیجہ ہے۔
ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود COPHC نہ تو گوادر پورٹ کو بین الاقوامی شپنگ روٹس پر جگہ دلوا سکی، نہ ہی کسی قابلِ ذکر تجارتی سرگرمی کو فروغ دے پائی۔ بندرگاہ پر جہازوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے، ٹرمینلز عملی طور پر غیر استعمال شدہ ہیں اور فری زون محض فائلوں اور اعلانات تک محدود ہے۔ یہ تمام حقائق COPHC کے دعوؤں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد کو بے نقاب کرتے ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گوادر کے مقامی عوام کو مسلسل قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ روزگار، ترقی اور خوشحالی کے وعدے کیے گئے، مگر عملی طور پر انہیں پینے کے پانی، بجلی اور بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ COPHC نے بندرگاہ کو ایک الگ تھلگ تجارتی جزیرہ بنا کر رکھا اور مقامی آبادی کو جان بوجھ کر ترقی کے عمل سے باہر رکھا، جس سے عوامی بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔ اس
COPHC کی سب سے بڑی ناکامی واضحا اور مؤثر بزنس ماڈل کی عدم موجودگی ہے۔ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ گوادر پورٹ کو ٹرانزٹ حب بنانا ہے، ریجنل ٹریڈ سینٹر یا صنعتی بندرگاہ۔ اس پالیسی کنفیوژن نے سرمایہ کاروں کو دور دھکیل دیا اور گوادر کو ایک ’’کاغذی منصوبہ‘‘ بنا کر رکھ دیا۔ ایک سنجیدہ آپریٹر کے لیے یہ ابہام ناقابلِ قبول ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان COPHC کی کارکردگی کا محض دفاع کرنے کے بجائے اس کا سخت اور شفاف احتساب کرے۔ معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، واضح اہداف اور ڈیڈ لائنز مقرر کی جائیں اور ناکامی کی صورت میں آپریٹر تبدیل کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ گوادر پورٹ قومی اثاثہ ہے، کسی ایک کمپنی کی تجربہ گاہ نہیں۔
اگر COPHC اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہتی ہے تو یہ محض ایک کمپنی کی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات اور معاشی مستقبل کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ گوادر پورٹ کو مزید تاخیر اور نااہلی کا متحمل نہیں بنایا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں