بلوچستان سوال جو آج بھی جواب کا منتظر ہے

اداریہ

بلوچستان کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پرانا زخم ہے، جو ہر گزرتے سال کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ قومی اکاہی ہے جو رقبے میں سب سے بڑا، وسائل میں سب سے امیر اور سہولیات میں سب سے زیادہ محروم ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بلوچستان میں مسائل ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ یہ مسائل دہائیوں بعد بھی حل کیوں نہیں ہو سکے؟
ریاستی پالیسیوں میں بلوچستان ہمیشہ ثانوی حیثیت کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے عوام کو کبھی مکمل سیاسی اختیار نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا گیا۔ گیس کی دریافت بلوچستان میں ہوئی مگر اس کی روشنی آج بھی کئی بلوچ گھروں تک نہیں پہنچی۔ معدنی دولت نکالی گئی مگر بدلے میں پسماندگی کے سوا کچھ نہ ملا۔ یہ عدم توازن صرف معاشی نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔
بلوچستان کے نوجوان آج سب سے زیادہ سوال کر رہے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے دروازے بند، اور آواز بلند کرنے پر شکوک کی نگاہ—یہ طرزِعمل کسی بھی قوم کے نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو یا ترقیاتی منصوبوں میں مقامی شمولیت کی کمی، ہر معاملے میں اعتماد کا فقدان نمایاں ہے۔
اگر واقعی بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے تو اسے طاقت نہیں، اعتماد درکار ہے۔ شفاف مکالمہ، بااختیار صوبائی حکومت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انسانی حقوق کا احترام ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کا حل پیش کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے ساتھ انصاف کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں