”جب بیٹیاں بولیں“

اداریہ

سن رہے ہو؟
یہ ہوا کی سرسراہٹ نہیں
یہ رات کی خاموشی نہیں
یہ تو زندانوں میں
قید بیٹیوں کی سانسوں کی صدا ہے
جو پہاڑوں سے ٹکرا کر
تمہارے ضمیر تک آ رہی ہے۔
وہ بیٹیاں
جو قلم اٹھانے والی تھیں
جو چراغ جلانے آئی تھیں
آج اندھیروں میں
اپنے نام بھولنے پر مجبور ہیں
ان کی کلائیوں میں ہتھکڑیاں
اور آنکھوں میں سوال ہیں۔
کیا یہ مٹی تمہاری نہیں؟
کیا یہ بیٹیاں تمہارا عکس نہیں؟
یا غیرت اب صرف لفظوں میں رہ گئی ہے
اور خون میں نہیں؟
ظلم اب چھپ کر نہیں آتا
وہ وردی پہن کر آتا ہے
وہ گھروں کے دروازے توڑتا ہے
وہ ماں کی چیخ کو روندتا ہے
اور بیٹی کو
ریاست کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔
یہ بلوچ، کرد، فلسطین کی بیٹیاں ہیں
جن کا جرم صرف اتنا ہے
کہ انہوں نے سر جھکانے سے انکار کیا
انہوں نے سچ بولنا سیکھ لیا
اور خاموشی کو قبول نہ کیا۔
اے بلوچ!
یہ وقت تعارف کا نہیں
یہ وقت ثبوت کا ہے
یا تو تم تاریخ بنو گے
یا تاریخ تم پر مقدمہ لکھے گی۔
اگر آج بھی تم خاموش رہے
تو کل
تمہاری پہچان
صرف ایک خوف زدہ قوم کے طور پر ہوگی
جس نے اپنی بیٹیوں کو
تنہا چھوڑ دیا تھا۔
اور یاد رکھو—
جب بیٹیاں بولتی ہیں
تو صرف کہانیاں نہیں
انقلاب جنم لیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں