شہید ولید جان — خوابوں کا قتل اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

اداریہ

شہید ولید جان کی شہادت محض ایک فرد کی جدائی نہیں، یہ ہماری اجتماعی زندگی پر لگا وہ سوالیہ نشان ہے جس کا جواب ہم سب پر واجب ہے۔ ایک کم عمر، معصوم اور پرامید نوجوان—جس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب جگمگاتے تھےاچانک ایک اندھی شام کی نذر ہو گیا۔ یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ آخر کب تک ہمارے نوجوان یوں بے وقت چھین لیے جاتے رہیں گے؟
ولید جان کی مسکراہٹ، اس کے خواب اور اس کا یقین اس بات کی علامت تھے کہ نئی نسل زندگی سے محبت کرتی ہے، آگے بڑھنا چاہتی ہے، بہتر کل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے۔ مگر جب ایسے خواب خون میں ڈبو دیے جائیں تو صرف ایک گھر نہیں اجڑتا، پورا معاشرہ سوگوار ہو جاتا ہے۔ ایسی اموات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن، انصاف اور تحفظ محض نعرے نہیں، یہ زندہ قوموں کی بنیادی ضرورت ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم جذباتی تعزیت سے آگے بڑھ کر سنجیدہ سوال اٹھائیں۔ نوجوانوں کی جان کی حرمت کہاں ہے؟ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کیوں ہے؟ اور ہم بحیثیت معاشرہ ایسے حالات کی روک تھام کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ شہید ولید جان کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، بلکہ قانون، اخلاق اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے حق کے لیے آواز بلند کریں۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم یاد دہانی کرائیں: شہادتیں صرف ماتم کے لیے نہیں ہوتیں، وہ اصلاح اور بیداری کا پیغام بھی لاتی ہیں۔ اگر ہم نے اس پیغام کو نظرانداز کیا تو ہر آنے والا سانحہ ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہوگا۔
آئیے ہم اپنے معاشرے کو ایسا بنائیں جہاں کسی ماں کی گود یوں اجڑنے نہ پائے، اور کسی نوجوان کے خواب یوں بے وقت دفن نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں