اداریہ
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا قومی وحدت ہے، مگر بدقسمتی سے سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا خطہ بھی۔ اس کی تاریخ، الحاق اور بعد ازاں اختیار کی گئی ریاستی پالیسیوں نے ایک ایسے مسئلے کو جنم دیا جو آج بھی حل طلب ہے۔ یہ مسئلہ محض امن و امان یا سیکیورٹی کا نہیں، بلکہ اعتماد، شراکت اور انصاف کا ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت ریاستِ قلات کا الحاق ایک متنازع عمل رہا، جس پر آج بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ان سوالات کو طاقت سے دبانے کے بجائے اگر سیاسی بصیرت اور جمہوری رویہ اپنایا جاتا تو شاید بلوچستان میں مزاحمت، بغاوت اور فوجی آپریشنز کی طویل تاریخ رقم نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر فوجی آپریشن نے وقتی خاموشی تو پیدا کی، مگر مسئلے کی جڑ کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔
بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر اس کے باسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ گیس، معدنیات اور ساحلی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت مقامی آبادی کی زندگی میں بہتری لانے کے بجائے احساسِ محرومی کو بڑھاتی رہی ہے۔ جب ترقی مقامی شمولیت کے بغیر مسلط کی جائے تو وہ خوشحالی نہیں بلکہ مزاحمت کو جنم دیتی ہے، اور سی پیک جیسے بڑے منصوبے بھی اسی تناظر میں شکوک و خدشات کا باعث بنے ہیں۔
جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت اقدامات اور سیاسی آوازوں کا دباؤ کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئین کے منافی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود خلیج کو مزید وسیع کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست طاقت رکھتی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہریوں کو اعتماد، تحفظ اور برابری فراہم کر پا رہی ہے؟
اب وقت آ چکا ہے کہ بلوچستان کو محض سیکیورٹی کے چشمے سے دیکھنے کے بجائے سیاسی مسئلہ تسلیم کیا جائے۔ پائیدار امن بندوق سے نہیں، بلکہ مکالمے، آئینی حقوق، وسائل پر مقامی اختیار اور سچائی پر مبنی مفاہمت سے آتا ہے۔ اگر ریاست واقعی مضبوط پاکستان چاہتی ہے تو اسے ایک مضبوط، مطمئن اور بااختیار بلوچستان کو قبول کرنا ہوگا۔
بلوچستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں، انصاف سے حل ہوگا — اور انصاف میں تاخیر، عدم استحکام کو ہی جنم دیتی ہے۔

