اداریہ
گل پلازہ کراچی میں لگنے والی ہولناک آگ، جس کے نتیجے میں 26 افراد جان سے گئے اور 76 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے شہری نظم و نسق، حفاظتی انتظامات اور حکومتی نگرانی پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہم ہر بڑے حادثے کے بعد وقتی افسوس اور رسمی بیانات تک محدود رہتے ہیں، مگر مستقل اصلاحات سے گریزاں ہیں۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں بلند عمارتوں اور کمرشل پلازوں کی بھرمار ہے، مگر فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضے آج بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ آگ لگنے کے بعد ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر، ناکافی آلات، تنگ راستے اور عمارت میں ایمرجنسی اخراج کے ناقص انتظامات نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا گل پلازہ کو فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل تھا یا نہیں، اور اگر تھا تو اس پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟
یہ بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ ایسے سانحات کے بعد ذمہ داری کا تعین شاذ و نادر ہی ہو پاتا ہے۔ عمارت کے مالکان، متعلقہ سرکاری ادارے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ—سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اصل نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ آج بھی امید اور خوف کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مگر ان کی داد رسی کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانحے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں، قصورواروں کا تعین ہو اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں موجود کمرشل عمارتوں کا ازسرِنو آڈٹ، فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور ریسکیو اداروں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔ محض اعلانات اور وعدے اب کافی نہیں؛ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
گل پلازہ کا سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے آج سنجیدگی نہ دکھائی تو کل کوئی اور عمارت، کوئی اور آگ، اور مزید قیمتی جانیں ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی۔ یہ صرف حکومت کی نہیں، بلکہ پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہکہ انسانی جان کی قدر کو اولین ترجیح بناہیں

