اداریہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے میں 120 سے زائد دکانوں کا جل کر راکھ ہو جانا نہ صرف ایک المناک حادثہ ہے بلکہ یہ ہماری اجتماعی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور حفاظتی نظام کا کھلا ثبوت بھی ہے۔ یہ دکانیں محض اینٹ اور لکڑی کے ڈھانچے نہیں تھیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے روزگار، امیدوں اور مستقبل سے جڑی ہوئی تھیں جو چند لمحوں میں خاکستر ہو گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک صورتحال قابو سے باہر ہو چکی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے تجارتی علاقے میں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات کیوں موجود نہیں تھے؟ کیا بازاروں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد محض کاغذی کارروائی بن چکا ہے؟ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو شاید نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے شہروں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ تنگ بازار، غیر معیاری برقی نظام، فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی ایسے سانحات کو جنم دیتی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات اور وعدوں کا سلسلہ تو شروع ہو جاتا ہے، مگر عملی اصلاحات کہیں نظر نہیں آتیں۔
حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ تاجروں کی فوری امداد اور بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ صرف مالی مدد ہی کافی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین، مؤثر نگرانی اور فائر سیفٹی کے نظام کو لازمی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ فائر بریگیڈ کے محکمے کو جدید آلات اور تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کوئٹہ کا یہ سانحہ ایک وارننگ ہے۔ اگر اب بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو آئندہ بھی ایسے حادثات ہمارے شہروں اور معیشت کو اسی طرح جلاتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کا جان و مال محفوظ بنایا جا سکے۔

