اداریہ
ڈسٹرکٹ خضدار کے تحصیل مولہ میں منیالو، رائیکو اور رند علی پر مشتمل آبپاشی منصوبہ بلوچستان میں ترقیاتی نظام کی ناکامی کی ایک واضح مثال بنتا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ جسے کسان دوست، کلائمیٹ ریزیلینٹ اور معاشی بحالی کا ماڈل قرار دیا گیا تھا، آج کاغذی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک خطرناک تضاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقریباً 1.45 ارب روپے کی خطیر رقم اس منصوبے کے لیے منظور اور بڑی حد تک ریلیز کی جا چکی ہے۔ منصوبہ 2018–19 میں شروع ہوا، مدت 36 ماہ مقرر کی گئی اور تکمیل 2021–22 تک متوقع تھی، مگر 2025–26 میں بھی یہ منصوبہ “Under Progress” کی فائلوں میں دفن ہے۔ فائلوں میں تکمیل کی شرح 70 فیصد دکھائی جاتی ہے جبکہ زمینی مشاہدات کے مطابق حقیقی کام 15 فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ فرق محض تاخیر نہیں بلکہ سنگین بدانتظامی اور ممکنہ کرپشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نہ تو تاخیر کی کوئی واضح وجوہات عوام کے سامنے رکھی گئیں اور نہ ہی کسی افسر یا ٹھیکیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ہر سال ایک ہی جملہ دہرایا جاتا ہے کہ منصوبہ جاری ہے، حالانکہ نہ مکمل چینلز موجود ہیں، نہ معیاری لائننگ، نہ مربوط واٹر فلو سسٹم اور نہ ہی حفاظتی بند منصوبے کے مطابق تعمیر ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر محض کھدائی کر کے کام چھوڑ دیا گیا جبکہ ادائیگیاں منظور ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف عوامی وسائل کے ضیاع کا سوال ہے بلکہ ان کسانوں کی بقا کا مسئلہ بھی ہے جن کے لیے پانی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ بین الاقوامی ڈونرز کی شمولیت کے باوجود اگر عملدرآمد اس حد تک ناقص ہو تو یہ صوبائی ترقیاتی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ متعلقہ ادارے محض بیانات سے آگے بڑھیں۔ محکمہ آبپاشی بلوچستان، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبے کا فوری، آزاد اور شفاف آڈٹ کریں، ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کا تعین کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔
اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو پانی نہیں ملتا تو یہ منصوبہ ترقی نہیں بلکہ ناکامی کی علامت ہے۔ شفاف احتساب کے بغیر نہ صرف یہ منصوبہ بلکہ آئندہ تمام ترقیاتی دعوے عوام کے اعتماد سے محروم ہوتے جائیں گے۔ مولہ کا یہ منصوبہ اب ایک امتحان ہے یا تو ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، یا یہ مثال ہمیشہ کے لیے بلوچستان میں بدانتظامی کی علامت بن کر رہ جائے گی۔

