کراچی کے بلوچ اور بلوچستان کی سیاست: فاصلے کیوں بڑھتے گئے؟

اداریہ

بلوچ سیاسی تاریخ کے متنوع تانے بانے میں کراچی اور اندرون سندھ میں آباد بلوچ برادریوں کا کردار ہمیشہ ایک دلچسپ اور پیچیدہ مطالعہ رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ برادریاں بلوچستان کے مرکزی سیاسی دھارے، خاص طور پر قوم پرست تحریک، سے گہری وابستگی رکھتی تھیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن (B.S.O.) جیسی تنظیموں کا جنم کراچی میں ہوا تھا اور بلوچ لیگ جیسی ابتدائی قوم پرست تنظیموں کی بنیاد بھی کراچی میں ہی رکھی گئی تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ، یہ گہرا تعلق ماضی کی ایک داستان بنتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے صرف ایک نہیں، بلکہ کئی گہرے ساختی، سیاسی اور سماجی عوامل کارفرما ہیں۔

بلوچستان کی داخلی سیاست: انتشار، دباؤ اور نئی شکلیں

بلوچستان کی داخلی سیاست کی تبدیلی اس علاحدگی کا سب سے بڑا محرک ہے۔ تاریخی قوم پرست رہنمائی — جس کی نمائندگی عطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو، اور خیر بخش مری جیسی ہستیوں سے ہوتی تھی — کا دور اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ ان رہنماؤں کے بعد ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں۔ موجودہ دور کے “بدلتے معیارات اور تقاضوں” کے تحت نئی قیادت کی تشکیل ایک بڑا چیلنج ہے۔

ایک طرف روایتی پارلیمانی سیاسی جماعتوں پر مسلسل ریاستی دباؤ اور سیاسی اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی میدان میں ایک نئی قسم کی مزاحمتی تحریک ابھری ہے، جس کی توجہ کا مرکز انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور بلوچستان کے وسائل پر کنٹرول جیسے مخصوص مسائل ہیں۔ یہ تحریک، جس کی نمائندگی بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور دیگر گروپ کر رہے ہیں، اپنی نوعیت میں بنیادی طور پر صوبائی اور مقامی مسائل پر مرکوز ہے۔ اندرون سندھ یا کراچی کے رہائشی بلوچوں کے لیے، جن کے روزمرہ کے مسائل قدرے مختلف ہیں، اس نئی تحریک سے براہ راست وابستگی قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کراچی: ایک نئی اور پیچیدہ سیاسی اکائی کی تشکیل

کراچی کی صورت حال اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ شہر نے اپنے بلوچ باشندوں کے لیے ایک یکسر مختلف سیاسی ماحول تشکیل دے دیا ہے۔

· لسانی و نسلی سیاست کا غلبہ: کراچی کی سیاست پر لسانی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کا گہرا اثر ہے۔ یہاں کی سیاست سندھی، اردو بولنے والے (مہاجر)، پشتون اور دیگر گروہوں کے درمیان طاقت کی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں بلوچ شناخت اکثر یا تو ان لڑائیوں میں ایک فریق بن جاتی ہے یا پھر مرکزی دھارے کی سیاست میں اپنی الگ پہچان کھو دیتی ہے۔
· بلوچ قوم پرستی سے نکل کر شہری سیاست میں مدغم ہونا: کراچی کے بلوچوں کی بڑی تعداد اب شہر کے عام سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل — جیسے پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزگار — میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا سیاسی ایجنڈا اب بلوچستان کی روایتی قوم پرست جدوجہد کے بجائے، شہری حقوق اور ترقی کے سوالات سے زیادہ وابستہ ہو چکا ہے۔
· بے امنی اور نفسیاتی فاصلے: کراچی اور بلوچستان کے درمیان سکیورٹی کے مسائل اور بعض اوقات سفر پر پابندیوں جیسے اقدامات نے دونوں خطوں کے درمیان جغرافیائی اور نفسیاتی فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ اس سے تعلقات اور رابطے کمزور ہوئے ہیں۔

نتیجہ: تبدیلی کا منطقی انجام

اس تمام تر صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کراچی اور اندرون سندھ کے بلوچ اب بلوچستان کی مرکزی سیاست کے بجائے اپنے اردگرد کے سیاسی ماحول سے زیادہ ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ یہ تبدیلی ان کی بے اعتنائی یا لاتعلقی کا نتیجہ نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ سیاسی ترجیحات اور حقیقتوں کے بدل جانے کا منطقی انجام ہے۔

اس تبدیلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بلوچی تشخص ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ، اس نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اب یہ شناخت کسی ایک صوبائی سیاست کے بند ڈبے میں بند ہونے کے بجائے، ایک وسیع تر شہری اور علاقائی سیاست کے تناظر میں اپنا راستہ تلاش کر رہی ہے۔ اس نئے دور میں، بلوچ برادری کے اندر یکجہتی کے نئے تصورات اور سیاسی اظہار کی نئی شکلوں کی ضرورت ہے، جو نہ صرف تاریخی جڑوں بلکہ موجودہ جغرافیائی اور سماجی حقیقتوں کا بھی احاطہ کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں