اداریہ
بلوچستان میں وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کا اظہار، آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کی بات کرنا اور ریاستی اقدامات پر تنقید کرنا جرم نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے وکلاء اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دباؤ، ہراسانی اور گرفتاریوں کا سامنا ہے، جو نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی ایڈووکیٹ کی گرفتاری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ مسائل کا حل ہے اور نہ ہی امن و استحکام کی ضمانت۔ وکلاء کسی بھی معاشرے میں انصاف کے محافظ اور شہری آزادیوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔ انہیں نشانہ بنانا دراصل انصاف کے پورے نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانا کسی بھی جمہوری نظام میں جرم نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے تحمل، برداشت اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مکالمے اور قانون کے ذریعے سنا اور حل کیا جائے۔ ایمان مزاری اور ہادی ایڈووکیٹ سمیت تمام گرفتار وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچستان میں وکلاء و انسانی حقوق کے کارکنوں کو بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینے کا موقع دیا جائے۔ یہی راستہ جمہوریت، انصاف اور پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
Load/Hide Comments

