اداریہ
بلوچستان آج سراپا احتجاج ہے، اور یہ احتجاج کسی سازش یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ ریاستی بے حسی، ناانصافی اور مسلسل ناکامیوں کے خلاف ایک کھلا فردِ جرم ہے۔ یہ وہ چیخ ہے جسے برسوں دبانے کی کوشش کی گئی، مگر اب یہ پورے صوبے کی آواز بن چکی ہے۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ محض ایک انسانی بحران نہیں بلکہ ریاستی ساکھ پر ایک سنگین سوال ہے۔ معزز شہری، طلبہ، اساتذہ اور سیاسی کارکن برسوں سے لاپتہ ہیں، ان کے اہلِ خانہ عدالتوں، کیمپوں اور احتجاجی سڑکوں کے درمیان رُل رہے ہیں، مگر ریاست کے پاس دینے کو نہ جواب ہے نہ انصاف۔
دوسری جانب معزز شہریوں اور تاجروں کا بھتہ کے لیے اغوا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ اغوا صرف افراد کے نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت، کاروبار اور مستقبل کے اغوا ہیں۔ جب تاجر محفوظ نہ ہوں تو سرمایہ کاری کیسے آئے؟ جب روزگار نہ ہوگا تو بدامنی کیسے رکے گی؟ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جسے توڑنے کی سنجیدہ کوشش کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
مزید المیہ یہ ہے کہ جو سرکاری ملازمین اپنے جائز اور آئینی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں، ان کے جواب میں انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریاں نصیب ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تنخواہ مانگنا جرم ہے؟ کیا روزگار کا تحفظ ریاست کے خلاف بغاوت بن چکا ہے؟ طاقت کے ذریعے آواز دبانا مسائل کا حل نہیں بلکہ آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بدترین پسماندگی کی مثال بنا ہوا ہے۔ گیس بلوچستان کی ہے مگر چولہے کہیں اور جلتے ہیں۔ معدنیات یہاں سے نکلتی ہیں مگر خوشحالی کہیں اور جاتی ہے۔ یہ کھلی ناانصافی ہی ہے جس نے احساسِ محرومی کو نفرت میں بدلنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
امن و امان کے نام پر برسوں سے جو پالیسیاں نافذ کی گئیں، ان کا حاصل خوف، عدم اعتماد اور فاصلے ہیں۔ بندوق نے بندوق کو جنم دیا، جبکہ مکالمہ، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد کو شعوری طور پر نظرانداز کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی مسئلہ طاقت سے ہمیشہ کے لیے حل نہیں ہوا۔
ریاست اور حکومت کے لیے یہ آخری وارننگ ہے۔ بلوچستان کو لاٹھی سے نہیں، انصاف سے جوڑا جا سکتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ان کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ اگر آج بھی آنکھیں بند رکھی گئیں تو کل یہ احتجاج شکایت نہیں بلکہ فیصلہ بن جائے گا۔
بلوچستان کا احتجاج دراصل پاکستان کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر یہ امتحان ایک بار پھر فیل ہوا تو اس کی قیمت صرف بلوچستان نہیں، پورا ملک ادا کرے گا۔

