ملک کی بگڑتی صورتحال اور وکلاء کی گرفتاریاں — انصاف خطرے میں

اداریہ

پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کشمکش نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر سب سے زیادہ کسی طبقے کا کردار اہم ہو جاتا ہے تو وہ وکلاء برادری ہے، جو آئین و قانون کی بالادستی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی طبقہ گرفتاریوں، سزاؤں اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
وکلاء کی حالیہ گرفتاریاں اور ان پر عائد کی جانے والی سزائیں محض چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے نظامِ انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ وکلاء ہمیشہ آمریت، غیر آئینی اقدامات اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلاء تحریک نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ آج اسی برادری کو دیوار سے لگانا دراصل قانون کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔
ریاست کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اختلافِ رائے اور احتجاج کو جرم بنانے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، اور وکلاء تو خود آئین کے محافظ ہیں۔ اگر انہیں ہی خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جائے گا تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے گا؟
ملک میں پہلے ہی اعتماد کا شدید بحران موجود ہے۔ ایسے میں وکلاء کی گرفتاریوں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ طاقت قانون سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ روش نہ صرف داخلی انتشار کو بڑھائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچائے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے ہوش کے ناخن لیں، وکلاء کے خلاف کارروائیاں بند کریں، گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور مسائل کا حل آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر تلاش کیا جائے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اگر قانون کے محافظ ہی غیر محفوظ ہو جائیں تو پھر ریاست کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں ملک کی بقا، استحکام اور ترقی اسی میں ہے کہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہری حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔ وکلاء کی آواز دبانا نہیں بلکہ سننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں