بلوچستان: ماں کی گود سے چھینا گیا وطن

اداریہ

میں بلوچستان ہوں۔
میں وہ ماں ہوں جس کی گود خالی کر دی گئی،
جس کے بچے زندہ ہیں مگر موجود نہیں،
جس کی زمین زرخیز ہے مگر اس کی آنکھیں بنجر ہو چکی ہیں۔
میں آزاد تھا…
یہ کوئی کہانی نہیں، یہ میرا زخم ہے۔
میں نے کبھی اپنی تقدیر خود لکھی تھی،
پھر طاقت آئی، سرحدیں کھینچی گئیں،
اور میری آزادی کو ایک فائل میں بند کر دیا گیا۔
میرے پہاڑوں نے لاشیں سنبھالیں،
میرے ریگزاروں نے چیخیں دفن کیں،
میرے ساحلوں نے آنسو پیے۔
اور دنیا؟
دنیا نے صرف میرے وسائل گنے۔
میری زمین سے دولت نکالی گئی،
مگر میرے بچوں کے ہاتھوں میں صرف سوال آئے۔
میرے گھروں میں چولہا ٹھنڈا ہے،
مگر دور شہروں میں میری گیس سے چراغ جلتے ہیں۔
کیا یہی ترقی ہے؟
کہ ایک قوم زندہ رہے اور دوسری جلتی رہے؟
اور پھر وہ زخم…
جس کا کوئی نام نہیں،
جسے صرف “مسنگ” کہہ کر دفن کر دیا گیا۔
وہ بیٹے جو ماں کی دعا لے کر نکلے تھے،
مگر کفن بھی نصیب نہ ہوا۔
وہ باپ جو اب تک دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں۔
وہ بہنیں جو ہر اجنبی چہرے میں اپنا بھائی ڈھونڈتی ہیں۔
کیا کسی نے پوچھا
کہ لاپتہ ہونا کیسا ہوتا ہے؟
یہ مرنے سے بھی بدتر ہوتا ہے—
کیونکہ یہاں نہ ماتم مکمل ہوتا ہے،
نہ امید ختم۔
میری مائیں سڑکوں پر بیٹھی ہیں،
ہاتھوں میں تصویریں، آنکھوں میں قیامت۔
ان کے سوال سادہ ہیں:
میرا بیٹا کہاں ہے؟
مگر جواب دینے والا کوئی نہیں۔
میں چیخنا چاہتا ہوں،
مگر میری چیخوں کو بغاوت کہا جاتا ہے۔
میں سچ بولتا ہوں،
تو مجھے خطرہ بنا دیا جاتا ہے۔
یاد رکھو،
قومیں بندوق سے خاموش ہو سکتی ہیں،
مگر درد سے نہیں۔
درد نسلوں میں منتقل ہوتا ہے،
اور ایک دن تاریخ بن کر لوٹتا ہے۔
میں بدلہ نہیں مانگتا،
میں انصاف مانگتا ہوں۔
میں خون نہیں مانگتا،
میں اپنے گمشدہ چہرے واپس مانگتا ہوں۔
بلوچستان آج قبرستان کی طرح خاموش ہے،
مگر ہر قبر سوال کر رہی ہے:
کیا انسان اتنا سستا ہو گیا ہے؟
اگر میرا جرم صرف یہ ہے
کہ میں اپنے حق کی بات کرتا ہوں،
تو ہاں—
میں مجرم ہوں،
اور مجھے اس جرم پر فخر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں