حلیم پلازہ سانحہ اور حکومتی بے حسی

اداریہ

کوئٹہ کے دل میں واقع حلیم پلازہ میں پیش آنے والا دلخراش سانحۂ آتشزدگی نہ صرف درجنوں تاجروں کے لیے معاشی تباہی کا سبب بنا بلکہ اس نے حکومتی کارکردگی اور ترجیحات پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کروڑوں روپے کا نقصان، زندگی بھر کی جمع پونجی کا جل کر راکھ ہو جانا اور بے شمار خاندانوں کا ایک ہی لمحے میں بے سہارا ہو جانا کسی بھی ذمے دار ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ اب تک حکومتی سطح پر نہ تو شفاف تحقیقات ہو سکیں اور نہ ہی متاثرین کی داد رسی کی گئی۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ واقعے کے مقام سے چند منٹ کے فاصلے پر فائر بریگیڈ کی موجودگی کے باوجود امدادی عملہ بروقت نہ پہنچ سکا، جس کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو شاید نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس سنگین غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کب تک ایسے واقعات کے بعد ذمہ داران کو بچایا جاتا رہے گا؟
بلوچستان پہلے ہی شدید غربت، بے روزگاری، سرحدی بندشوں اور بدامنی جیسے مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں تاجر طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے اسی طبقے کو آئے روز عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ ایک طرف دکانوں اور گوداموں پر چھاپے مار کر تاجروں کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف حلیم پلازہ جیسے سانحات میں انہیں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک کے دیگر صوبوں میں اس نوعیت کے حادثات کے بعد حکومتیں فوری طور پر متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرتی ہیں، مگر بلوچستان میں اربوں روپے ٹیکس دینے والے تاجر آج بھی حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ صوبے کے معاشی استحکام کے لیے بھی خطرناک ہے۔
نیشنل پارٹی کی جانب سے اس واقعے پر شدید مذمت اور متاثرین کے لیے فوری مالی ازالے کا مطالبہ عوامی جذبات کی ترجمانی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ حلیم پلازہ کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین ہو اور متاثرہ تاجروں کو فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ صوبے میں نہ جان و مال محفوظ ہے اور نہ ہی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں