اداریہ
پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، اُن میں مہنگائی سرفہرست ہے۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، اور ریاستی پالیسیوں کی کمزوری اس تکلیف کو مزید بڑھا رہی ہے۔
مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں ناقص معاشی منصوبہ بندی، بڑھتا ہوا مالی خسارہ، بیرونی قرضوں پر انحصار، اور کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی شامل ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر معاشی اصلاحات مستقل مزاجی سے نافذ نہ ہو سکیں۔ نتیجتاً ہر آنے والی حکومت سابقہ غلطیوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور نظر آتی ہے، اور عوام کو صرف صبر کی تلقین ملتی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں، وہ یا تو وقتی ہوتے ہیں یا پھر کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور کمزور ریگولیٹری نظام نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ریاستی ادارے اکثر بااثر طبقوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، جبکہ قانون کی سختی عام دکاندار یا صارف تک ہی محدود رہتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھے اور عملی، طویل المدتی معاشی اصلاحات نافذ کرے۔ ٹیکس نظام میں شفافیت، مقامی پیداوار کا فروغ، اور کمزور طبقوں کے لیے مؤثر ریلیف پیکجز ناگزیر ہیں۔ جب تک پالیسی سازی میں سنجیدگی اور عوامی مفاد کو ترجیح نہیں دی جائے گی، مہنگائی کا یہ عفریت پاکستانی عوام کا تعاقب کرتا رہے گا۔

