بلوچستان: بندوق نہیں، سنجیدہ سیاسی حل درکار ہے

اداریہ

بلوچستان کے کئی علاقوں میں حالات ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بلوچ سرمچاروں اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، دونوں جانب زخمی ہونے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، پہلے بھی خبردار کیا جا چکا ہے، مگر ریاستی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طاقت کے استعمال نے آج تک بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا۔ ہر نئی کارروائی کے بعد صرف لاشوں میں اضافہ، نفرت میں شدت اور خلیج میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر حکومتِ پاکستان کب یہ تسلیم کرے گی کہ بلوچستان محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے؟
حکومت اگر واقعی بلوچستان کو پاکستان کا دل سمجھتی ہے تو اسے گولی اور آپریشن کی زبان ترک کرنا ہوگی۔ دہائیوں سے جاری پالیسیوں نے صرف عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔ لاپتہ افراد، وسائل پر اختیار کی کمی، سیاسی آوازوں کا گلا گھونٹنا اور عوام کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنا — یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے منہ موڑ کر امن کی بات محض ایک دعویٰ ہی رہے گی۔
ریاست کو چاہیے کہ فوری طور پر عسکری حل پر انحصار ختم کرے اور سنجیدہ، بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔ بلوچ عوام کے منتخب نمائندوں، قوم پرست قیادت اور ناراض حلقوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہر مسئلے کا جواب بندوق نہیں ہوتا، اور ہر اختلاف کو غداری قرار دینا خود ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، مگر یہ ذمہ داری سب سے زیادہ طاقت رکھنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے کہ وہ راستہ بدلے۔ حکومتِ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پرامن، باوقار اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے جو بلوچستان کو مسلسل خونریزی سے نکال سکتا ہے۔
اگر اب بھی سبق نہ سیکھا گیا تو تاریخ گواہ رہے گی کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے انہیں طاقت سے دبانے کی ضد نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کو نقصان پہنچایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں